خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 118

1953ء 118 خطبات محمود باوجود اس کے کہ اُس کے معدہ میں رسولی تھی جس کی وجہ سے غذا معدہ کے اندر ٹھہر نہیں سکتی تھی اس لیے اس نے روٹی نہیں کھائی وہ پھر بھی مرے گا۔ باوجود اس کے کہ اُس کی انتڑیوں میں سوزش تھی جس کی وجہ سے اُس کی غذا وہاں ٹھہر نہ سکی۔ اُس نے کوئی شرارت نہیں کی مگر وہ روٹی نہ کھانے کی وجہ سے پھر بھی مرے گا۔ اسی طرح باوجود اس کے کہ ایک شخص کسی جائز عذر کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا وہ مرے گا۔ بعض لوگ عدم فراست اور عدم شناخت کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ چونکہ وجہ جائز ہے اس لیے نتیجہ نہیں نکل سکتا اُن کا یہ خیال درست نہیں ۔ وجہ جائز ہو یا نا جائز نتیجہ ضرور نکلے گا۔ تم اپنے سر پر اپنی کمائی سے خریدا ہوا تیل لگاؤ یا چوری سے حاصل کیا ہوا تیل لگاؤ سر ضرور چکنا ہوگا ۔ یہ نہیں کہ اپنی کمائی سے حاصل کردہ تیل سے سر چکنا ہو جاتا ہے اور چوری کے تیل سے سرسوکھا رہ جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ اپنی کمائی سے حاصل کئے ہوئے کپڑے سے تمہارا جسم ڈھک جائے اور چوری کئے ہوئے کپڑے سے جسم نہ ڈھکے۔ کپڑا چاہے چوری کا ہو یا اپنی کمائی سے خریدا ہوا اس سے جسم ڈھک جائے گا ۔ جیسے اپنی کمائی سے خریدے ہوئے کپڑے سے جسم ڈھک جاتا ہے اسی طرح چوری سے حاصل کئے ہوئے کپڑے سے بھی جسم ڈھک جاتا ہے۔ نتیجے دونوں کے ایک سے ہوں گے۔ روٹی کا نہ کھانا تو انسان پھر بھی برداشت کر سکتا ہے ۔ مثلاً وہ خیال کر سکتا ہے کہ اگر وہ مر جائے گا تو کیا ہوگا ۔ اُسے اگلے جہان میں تو زندگی ملے گی یعنی اُسے موت کے بعد اگلے جہان کی زندگی مل جاتی ہے۔ لیکن روحانی موت کا کوئی قائم مقام نہیں ۔ جسمانی موت کے متعلق تو تم کہہ دو گے سارے لوگ مرتے ہیں ہمیں موت آجائے گی تو کیا ہوا اگلے جہان میں ہمیں زندگی مل جائے گی۔ لیکن اگر تمہیں روحانی موت آجائے تو تم کیا کرو گے ؟ روحانی موت کا تو کوئی قائمقام نہیں ۔ اس لیے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کا کوئی علاج مقرر کرے۔ چنانچہ اصلاح نفس کے جتنے فرائض مقرر ہیں اللہ تعالیٰ نے اُن کے قائمقام بھی مقرر کر دیئے ہیں۔ یعنی اگر تم فلاں فرض ادا نہ کر سکو تو فلاں چیز اس کا قائمقام ہو جائے گی۔ مثلاً اگر تم کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھتے تو تم بیٹھ کر نماز پڑھ لو۔ یہاں تک تو جسمانی طور پر بھی قائمقام مقرر ہے۔ مثلاً اگر تم روٹی نہیں کھا سکتے تو چاول کھالو۔ پھر فرمایا اگر تم بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر نماز پڑھ لو۔ جسمانی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر تم چاول نہیں کھا سکتے تو تم حریر 1 استعمال کر لو ، دودھ کی لسی پی لو۔ فرمایا اگر تم لیٹ کر بھی نماز نہیں پڑھ سکتے تو تم اشارہ سے نماز ادا کر لو۔ یہاں جسم کا قائم مقام ختم ہو جاتا ہے ۔ اس سٹیج پر