خطبات محمود (جلد 34) — Page 112
$1953 112 خطبات محمود ملک ہے۔جنگل کے درندوں اور میدانوں کے چرندوں کے لیے بھی جگہ موجود ہے کیونکہ دنیا میں ایسی جگہیں موجود ہیں جو انہیں پناہ دینے کے لیے تیار ہیں۔لیکن تمہارے لئے پناہ کی کوئی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ کوئی خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والا بندہ تمہیں پناہ دے۔آخر خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے بندے ہر ملک اور ہر قوم میں موجود ہوتے ہیں جن میں خواہ اپنی شہرت کی خاطر خواہ خدا تعالیٰ کے خوف سے،انصاف اور عدل پیدا ہوجاتا ہے۔رسول کریم ہے جب طائف کے لوگوں کو وعظ کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور طائف کی والوں نے آپ سے بُر اسلوک کیا، پتھر مارے اور آپ کو شہر سے نکال دیا تو ملکہ کی روایات کے مطابق کہ جب تک کوئی شخص کسی شہر میں رہتا تھا وہ شہری حقوق کا حقدار ہوتا تھا لیکن جب وہ اپنی مرضی سے شہر چھوڑ کر چلا جاتا تو وہ شہری حقوق کا اُس وقت تک حقدار نہیں رہتا تھا جب تک کہ شہر میں رہنے والے پھر اُسے شہری حقوق نہ دے دیں۔اس لیے مکہ والے سمجھتے تھے کہ طائف جانے کے بعد رسول کریم ہے مکہ کے شہری حقوق سے دستبردار ہو گئے ہیں۔آپ اور آپ کے ساتھی بھی یہ جانتے تھے کہ جب تک نئے سرے سے مکہ کے شہری حقوق آپ کو نہ ملیں آپ کا مکہ میں داخل ہونا آسان نہیں۔چنانچہ جب آپ طائف سے واپس آئے اور آپ کو اس بات کی امید نہ رہی کہ طائف اور اُس کے گردونواح کے لوگ آپ نیک سلوک سے پیش آئیں گے تو آپ نے اپنے ساتھی حضرت زیڈ سے فرمایا زید! چلو ہم مکہ میں واپسی چلتے ہیں۔زید نے جواب دیا یا رَسُولَ الله ! کیا مکہ والے آپ کو دوبارہ داخل ہونے دیں گے؟۔یعنی ای وہ تو پہلے سے ہی مخالف ہیں اور پھر جب آپ ایک دفعہ شہر چھوڑ کر آگئے ہیں تو عرب کے رواج کے مطابق آپ نے مکہ کے شہری حقوق چھوڑ دیئے ہیں۔اب وہ آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔آپ نے فرمایا زید اتم وائل کے پاس جاؤ اور اُسے کہو کہ اگر تم مجھے پناہ دو تو میں مکہ میں دوبارہ آ جاؤں۔مکہ کی ریاست کے اندر ہر رئیس کا یہ حق تھا کہ وہ کہے میں فلاں شخص کو شہر میں رہنے کا حق دیتا ہوں۔اس لیے آپ نے زیڈ کو وائل کے پاس بھیجا کہ اگر تم ہمیں پناہ دینے کے لیے تیار ہو تو ہم شہر میں آجائیں۔حضرت زید نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! وہ تو ہمارا شدید ترین دشمن ہے، وہ ہمیں پناہ کیوں دے گا !! رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم جاؤ۔وائل بے شک دشمن ہے لیکن ساتھ ہی اس کے اندر یہ شان اور خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ اگر اُس سے کوئی پناہ مانگے تو پناہ نہ دینے میں وہ اپنی ہتک محسوس کرتا ہے۔