خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 108

1953ء 108 خطبات محمود اب سننے والا تو کہے گا یہ کتنی بے شرم ہے کہ دیتی تو نصف پھل کا ہے۔ اور مانگتی نہ ختم ہونے والی نعماء ہے۔ لیکن وہ کہے گی تم خود بے شرم ہو۔ میرے خدا نے کہا ہے تم یہ کچھ مانگو اور میں مانگتی ہوں ۔ وہ آپ کہتا ہے تم جو کچھ مانگو میں دوں گا۔ اور جب وہ دینے پر آئے تو تم کون ہو منع کرنے والے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم اگر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی کسی کو دوگی تو وہ اُس کے بدلہ میں نہ ختم ہونے والی نعماء دے گا ۔ گویا تمہاری ہر چھوٹی نیکی کامل رحمانیت اور کامل رحیمیت دلاتی ہے۔ تم اگر رحیمیت اور رحمانیت کو مد نظر رکھ کر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ پڑھتے ہو تو تم پر انعامات کی وسعت کھلتی ہے ایک آدمی اگر ایک دفعہ سُبْحَانَ اللہ کہہ دیتا ہے۔ تو وہ سمجھ لے کہ اس نے ایک دفعہ سُبْحَانَ اللہ کہہ کر کتنا بڑا انعام لے لیا۔ پس ہر نیکی کے لیے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ایک گاڑی ہے جو اُسے کہیں کا کہیں پہنچا دیتی ہے ۔ پس بدقسمت ہے وہ وہ شخص جس پر رحمتوں کا دروازہ تو کھلا ہے لیکن وہ اس سے حصہ نہیں لیتا ۔ خدا تعالیٰ کے انعامات کا دریا اس کے قریب بہ رہا ہے لیکن وہ اس میں ہاتھ نہیں دھوتا ۔ ایک ہندو اور ایک سکھ کو تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن کتنا بد قسمت ہے ایک مسلمان جسے خدا تعالیٰ نے آپ ہی یہ سکھا دیا اور کہا تو مانگ ۔ اور وہ مانگتا نہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں ایک ماں اپنے بچہ سے کہتی ہے مانگ ! پھر وہ مانگتا ہے اور ماں اُسے دیتی بھی جاتی ہے اور پیار بھی کرتی جاتی ہے۔ وہ پہلے ایک چیز اس کے سامنے کر دیتی ہے ۔ اور اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ تم مانگو ۔ پھر وہ چیز پیچھے کر لیتی ہے۔ بچہ آگے آتا ہے پھر ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بچے کا دل میلا ہوگا تو وہ اُسے سینہ سے چمٹا لیتے ہیں اور وہ چیز اُسے دے دیتے ہیں ۔ ساتھ ساتھ ماں ، ماں واری ، ماں صدقے کہتی جاتی ہے۔ یہی حالت خدا تعالیٰ کی ہے۔ وہ رحمان ہے، رحیم ہے ۔ وہ خود کہتا ہے کہ ہر کام سے پہلے بِسْمِ الله الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھو اور میری رحمانیت اور رحیمیت کو جوش دلاؤ ۔ پھر جب بندہ بِسمِ اللہ پڑھتا ہے تو وہ اپنی دونوں صفات کو جاری کر دیتا ہے۔ اور پھر اپنے دیئے ہوئے انعامات کے صحیح استعمال پر ممنونِ احسان بھی ہو جاتا ہے۔ اور کہتا ہے میرے بندہ نے یہ کام کیا ہے حالانکہ نہ اُس نے کوئی کام کیا اور نہ خدمت کی اس نے خود ہی خدمت کا رستہ دکھایا اور خدمت کروائی اور پھر اس خدمت کے بدلہ میں اُسے نوازا اور نوازتا چلا گیا اور نوازتا چلا جائے گا ۔