خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 93

خطبات محمود 93 $1953 رسول کریم ﷺ کے نام کو لے لو۔آپ کا نام "محمد " تھا۔"محمد " اسم ذات ہے۔لیکن الی تصرف کے ماتحت یہ اسم صفت بھی ہے۔اب اگر ہم لفظ " محمد " بولتے ہیں تو اس سے اسم ذات اور کی اسم صفت دونوں مراد ہوتے ہیں۔جب اسے بطور اسم ذات لیا جاتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ بچہ کی پہچان کے لیے اس کا نام والدین نے "محمد " رکھا ہے۔اور جب اسم صفت مراد لیا جاتا ہے تو اسکے معنے یہ ہوتے ہیں کہ بچے کا نام الہی تصرف کے ماتحت "محمد" رکھا گیا ہے تا یہ اس کے خاص قسم کے اخلاق اور صفات پر دلالت کرے۔پس بعض نام ذاتی بھی ہوتے ہیں اور صفاتی بھی ہوتے ہیں۔محمد " ذاتی نام بھی تھا اور صفاتی بھی۔اس لیے جب مشرکین مکہ نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیں تو صحابہ نے چڑھ کر کہا یا رَسُولَ اللہ ! یہ لوگ آپ کو گالیاں دیتے ہیں۔عرب لوگ زبان دان تھے۔وہ یہ جانتے تھے کہ اگر وہ " محمد " نام لے کر گالیاں دیں گے تو اس کے کوئی معنے نہیں ہوں گے۔محمد کے معنے ہیں" تعریف کیا گیا"۔اب جس شخص کی تعریف کی جائے اُسے گالیاں کس طرح دی جاسکتی ہیں۔اگر "محمد " نام لے کر گالیاں دی جائیں گی تو سننے والا کہے گا کہ ایک اچھی صفت رکھنے کی والا بُرا کیسے ہو گیا۔اس لیے جب وہ گالیاں دیتے تھے تو "محمد" نہیں کہتے تھے۔مُدمم کہا کرتے تھے اور مُذَمَّم کے معنے ہیں جس کی مذمت کی گئی ہو۔جیسے ہمیں مرزائی کہہ کر لوگ گالیاں دیتے ہیں احمدی کہہ کر گالیاں نہیں دیتے۔کیونکہ لفظ " احمدی" کے معنے ہیں احمد ﷺ سے تعلق رکھنے والا۔اب اگر کوئی کہے کہ احمد سے تعلق رکھنے والے بُرے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہوگا ؟ سننے والا کہے گا۔محمد رسول اللہ اللہ سے تعلق رکھنے والا بُرا کیسے ہو گیا۔اس لیے یہ لوگ ہمیں احمدی نہیں کہتے مرزائی کہتے ہیں۔اسی طرح مشرکین مکہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مذمم کہا کرتے تھے۔اور مُذَمَّم کے معنی ہیں وہ ی شخص جس کی مذمت کی گئی ہو۔جب صحابہ نے رسول کریم ہے کے پاس عرض کیا کہ مشرکین مکہ آپ کو ی گالیاں دیتے ہیں تو آپ نے فرمایا آخر وہ کیا کہتے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله وہ آپ کو مُذَمَّم کہتے ہیں آپ نے فرمایا میرا نام تو محمد ہے مجھے تو کوئی گالی نہیں دے سکتا ہے۔جیسے ہمیں کوئی احمدی کہہ کر گالی نہیں دے سکتا۔جب بھی کوئی شخص ہمیں گالیاں دے گا وہ قادیانی یا مرزائی کہے گا۔ہم نہ قادیانی ہیں اور نہ مرزائی۔اگر وہ ہمیں قادیانی کہتے ہیں تو قادیان میں ہندو اور سکھ بھی آباد تھے۔اور اگر مرزائی کہتے ہیں تو ادھر تو ایک مرزا ہے اور ادھر دس لاکھ مرزا ہیں۔جب