خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 91

1953ء 91 14 خطبات محمود بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھ کر مومن اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ ہر کام کا آغاز اور انجام اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے (فرموده یکم مئی 1953ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ دو رات کو گرمی کی وجہ سے میں اندر سو نہیں سکا اور باہر تیز ہوا تھی اس لیے بائیں لات کے گھٹنے میں درد شروع ہوگئی اور چلنا مشکل ہو گیا۔ مگر چونکہ میں سوٹیوں اور گڑ چ 1 (CRUTCH) کے سہارے چل سکتا ہوں ۔ اس لیے مسجد میں آگیا ہوں ۔ خطبہ میں بیٹھ کر پڑھوں گا۔ پچھلے دو جمعوں میں میں نے بِسمِ اللہ کے متعلق بعض باتیں کہی تھیں ۔ آج میں مختصرا اس آیت کے اگلے حصہ کے متعلق بعض باتیں بیان کرتا ہوں۔ قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ اس کی آیات کی ترتیب اس قسم کی ہے کہ وہ اپنی ذات میں ہی راہنمائی کرنے والی ہے۔ اس لیے اس کی طرف خاص طور پر اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ مثلاً ایک جگہ پر ایک باپ کھڑا ہو اور اُس سے نیچے ساتھ ہی اُس کا بیٹا کھڑا ہو۔ اور کوئی کہے کہ یہ والد ہے اور یہ بیٹا ہے۔ تو اُسے اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ باپ اونچی جگہ کھڑا ہے اور بیٹا نیچی جگہ کھڑا ہے۔ کیونکہ الفاظ اپنی ذات میں اُن کے مدارج پر دلالت کر رہے ہیں ۔ قرآن کریم بھی بات کو