خطبات محمود (جلد 34) — Page 54
$1953 54۔۔۔۔خطبات محمود ضرورت نہیں ہوتی اور نہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ تفسیر کو اس قدر لمبا کر دیا جائے کہ لوگوں کے ذہنوں پر بوجھ سا محسوس ہونے لگے۔پس میں نے تجویز کی ہے کہ جس طرح حضرت خلیفتہ اسیح الاول کا دستور تھا کہ آپ اختصار کے ساتھ قرآن کریم کے ایک حصہ کا روزانہ درس دیا کرتے تھے اسی طرح روزانہ اختصار کے ساتھ ایک رکوع کا درس ہو جایا کرے۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ اگر کوئی مضمون ایسا آ جائے جس پر زیادہ وقت لگ جائے اور رکوع ختم نہ ہو سکے تو اور بات ہے ورنہ زیادہ تر یہی ہوگا کہ آیات کی کا ترجمہ کر دیا جائے اور کوئی ایک آدھ بات بیان کر دی جائے تا کہ جماعت کے اندر قرآن کریم سے دلچسپی اور لگاؤ پیدا ہو جائے۔اس سال اگر مجھے درس کے لیے سال کا نصف حصہ بھی مل جائے ( کیونکہ درمیان میں جمعہ کی چھٹیاں بھی آجاتی ہیں اور پھر بیماریاں اور سفر بھی آجاتے ہیں ) تو چار سال میں قرآن کریم کا ایک دور ختم ہو جاتا ہے۔لیکن درس کا جو پہلا طریق تھا اُس سے تو دس گیارہ سال میں جا کر کہیں قرآن کریم کا ایک دور ختم ہوتا تھا۔اگر زیادہ تو فیق مل جائے اور خدا تعالیٰ صحت کی دے دے تو سال میں بھی قرآن کریم کا ایک دور ختم ہوسکتا ہے۔بہر حال میں نے مشورہ کے بعد تجویز کیا ہے کہ عصر کی نماز کے معا بعد درس قرآن کریم شروع کر دیا جائے اور سوا چار بجے ختم کر دیا ہے جائے تاکہ سکولوں کے طالب علم کھیلوں میں چلے جائیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کا عام درس ایسا ہی ہوتا تھا کہ اگر کوئی خاص کام آ گیا تو شام کے قریب درس ختم ہو جاتا تھا ور نہ آپ جلدی درس ختم کر دیتے تھے اور طلباء کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے چلے جاتے تھے۔درس اسی مسجد میں ہوا کرے گا۔اس مسجد کا نام ہم نے مسجد مبارک رکھا ہے۔لیکن کام یہ مسجد اقصیٰ کا دے رہی ہے۔کیونکہ اس میں جمعہ پڑھا جاتا ہے۔مجھ پر یہ اثر تھا کہ یہ مسجد، مسجد اقصیٰ سے بڑی ہے۔چنانچہ قادیان سے اندازے منگوائے گئے تو معلوم ہوا کہ یہ مسجد، مسجد اقصیٰ سے دگنی ہے ہے۔اسی وجہ سے اس میں جمعہ ہو جاتا ہے گواب چونکہ ربوہ کی آبادی بڑھ رہی ہے اور ایسے حالات پیدا ہورہے ہیں کہ بعض دنوں میں جب باہر سے زیادہ مہمان آجاتے ہیں تو جگہ کم محسوس 3 ہوتی ہے۔اس لیے شاید یہ مسجد بھی جمعہ کے لیے کافی نہ ہو اور جمعہ کے لیے ہمیں کوئی اور مسجد بنانی پڑے۔لیکن روزانہ جماعت کے لحاظ سے یہ مسجد بڑی بن گئی ہے۔حالانکہ چاہیے تھا کہ یہ مسجد چھوٹی