خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 42

$1953 42 خطبات محمود میں نے بُوٹ ایسے بنوائے ہوئے ہیں کہ پاؤں کا پنجہ بوٹ سے باہر رہتا ہے۔میں وہ بُوٹ پہن کر باہر نکل آتا ہوں ورنہ میرے پاؤں کے لیے بُوٹ کا بوجھ اٹھانا مشکل ہے۔احباب کو معلوم ہے کہ احرار اور اُن کے ساتھیوں نے احمدیت کے خلاف نئے سرے سے شورش شروع کر دی ہے۔بلکہ اسلام کے اجارہ دار ایک مولوی نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے یہاں نی تک کہہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا جلد کوئی فیصلہ نہ کیا تو پاکستان میں احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان وہی حالات رونما ہو جائیں گے جو ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان رونما ہوئے۔فساد پھیلانے والے مولوی چونکہ ڈرپوک بھی ہوتے ہیں اور منافق بھی اس لیے انہوں نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ورنہ اگر اس فقرہ کی تشریح کی جائے کہ " ہندوستان میں جو کچھ ہوا" تو یہی معنے ہوں گے کہ ہندوستان میں ہندوؤں نے جوا کثریت میں تھے مسلمانوں کو جو اقلیت میں تھے مارا۔" پاکستان میں بھی وہی کچھ ہو گا۔" اس کے یہی معنے ہوں گے کہ ان مولویوں کے اتباع جواکثریت میں ہیں احمدیوں کو جو اقلیت میں ہیں قتل کر دیں گے اور انکے گھروں کو لوٹ لیں گے۔اگر ان لوگوں میں جرات مومنانہ ہوتی۔تو یہ لوگ کہتے کہ اگر حکومت نے احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دیا تو ہم احمدیوں کو مار دیں گے۔مگر ادھر تو یہ لوگ جہاد کا دعویٰ کرتے ہیں اور ادھر اپنی ہر بات میں منافقت کا اظہار کرتے ہیں۔حالانکہ جہاد اور منافقت کا آپس میں جوڑ ہی کیا ہے۔اگر واقع میں ان لوگوں میں ایمان ہوتا ، اگر ان لوگوں میں شرافت ہوتی ، اگر ان لوگوں میں اسلام ہوتا تو یہ لوگ دلیری سے کہتے کہ ہم احمدیوں کو ماردیں گے۔لیکن کہتے یہ ہیں کہ لوگ احمدیوں کو مار دیں گے۔بھلا ان لوگوں سے کوئی پوچھے کہ تمہیں اس بات کا کیسے پتا لگا کہ لوگ احمدیوں کو ماردیں گے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ جو خواجہ ناظم الدین صاحب کے سامنے تو بیٹھے نہیں تھے۔ان کے اس فقرہ کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ اے لوگو! جو ہمارا وعظ سن رہے ہو، ہماری عزت کا خیال رکھتے ہوئے احمدیوں کو مار دینا۔بہر حال دشمن نے وہی کچھ کرنا ہے جو اُس کے ذہن میں آئے گا۔اسلام اور اس کے ارکان کا نام تو یہ لوگ دھوکا دینے کے لیے لیتے ہیں۔دراصل وہ اپنے دوست شیطان کے ذکر کو بلند کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے۔" روندی یاراں نوں لے لے نام بھراواں دا اسلام اور قرآن کی کا نام تو یہ لوگ یونہی اسے بدنام کرنے کے لیے لیتے ہیں۔اصل میں فتنہ پرداز لوگ اولیاء الطاغوت