خطبات محمود (جلد 34) — Page 29
$1953 29 29 خطبات محمود گالیاں کھانی پڑیں گی لیکن وہ پھر بھی خدمت سے باز نہیں آتا وہ یقینا خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے پیار کو بذب کرنے والا ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جب قیامت کے دن سب لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو انبیاء کے بعد سب سے مقدم وہ شخص ہو گا جس کو دین کی خدمت کا نہ صرف یہ کہ معاوضہ نہ ملا بلکہ اُسے جھاڑیں پڑیں، اُسے گالیاں کھانی پڑیں لیکن وہ خدمت سے پھر بھی باز نہ آیا۔اگر روزہ کی رکھنے والوں کے متعلق رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کہے گا کہ اُن کا معاوضہ میں ہوں 2ے تو یقیناً وہ لوگ جنہوں نے دین کی خدمت کی اور اس حالت میں خدمت کی کہ نہ صرف یہ کہ انہیں کوئی معاوضہ نہ ملا بلکہ انہیں جھاڑیں پڑیں، انہیں برا بھلا کہا گیا، انہیں گالیاں دی گئیں ، انہیں واجب القتل قرار دیا گیا، انہیں اخراج عَنِ الوطن کی دھمکیاں دی گئیں انہیں خدا تعالیٰ قیامت کی کے دن کہے گا کہ اگر انسانوں کے پاس تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں تو تمہاری جگہ میری گود میں ہے۔اور اگر انسانوں کے نزدیک تم واجب القتل قرار دیئے گئے تھے لیکن تم نے دین کی خدمت پھر بھی نہ چھوڑی تو تمہیں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنا مجھ پر فرض ہے۔پس تمہارے لیے خدا تعالیٰ نے اس نعمت کے دروازے کھولے ہیں جس کے دروازے سینکڑوں سال سے دوسروں پر نہیں کھولے گئے۔سینکڑوں سال گزر گئے اور دنیا اس نعمت سے محروم رہی۔جب اسلام ترقی پر تھا اس وقت اسلام کی خدمت کرنے والوں کی تعریف کی جاتی تھی اُن کی قدر کی جاتی تھی۔لیکن آج جب اسلام نہ صرف باطنی لحاظ سے بلکہ ظاہری لحاظ سے بھی گر چکا ہے، وہ نہ غیر مسلموں کے نزدیک مقبول ہے نہ مسلمانوں کے نزدیک مقبول ہے ، خدا تعالیٰ اپنی قبولیت اور اپنا تھی دست محبت تمہاری طرف بڑھاتا ہے، وہ تمہیں اپنی محبت اور پیار کی بشارت دیتا ہے۔پس تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے فرائض کو ادا کرو اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو رحمتیں اور برکتیں تمہیں ملتی ہیں تم انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کر لو۔ایسا زمانہ بہت کم آتا ہے اور مبارک ہوتے ہیں وہ لوگ جو ایسے زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔یہی لوگ نحوست سے دور اور خدا تعالیٰ کی جنت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ جو کہا ہے کہ اُس دن جنت قریب کر دی جائے گی 3 اس کا بھی یہی مفہوم ہے کہ خدا تعالیٰ ایسی جماعت کھڑی کر دے گا جو دین کی خدمت کرے گی اور نہ صرف یہ کہ