خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 372

$1953 372 خطبات محمود قسم کی پارٹیاں بنالینی چاہیں۔جنہیں یہ نصیحت ہو کہ ادھورا کام نہیں چھوڑنا۔یہ نہ ہو کہ وہ کہہ دیں ہم نے سن لیا تھا۔سب ٹھیک ہے۔اس لیے ہم آگئے۔ایک دفعہ میں نے اس قسم کی غلطی کی تھی۔مگر پھر مجھے سبق آ گیا۔اور میں نے اس قسم کی غلطی نہیں کی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو درد گردہ کی تکلیف تھی اس لیے آپ جمعہ کی نماز کے لیے تشریف نہیں لے گئے تھے۔اُس وقت میری عمر پندرہ سولہ سال کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ ہم پر حسن ظنی کیا کرتے تھے۔آپ سمجھتے تھے کہ ہم دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں تو یہ بھی اس نصیحت کو مانیں گے۔چنانچہ ہم سے آپ کسی بات کے متعلق تعہد سے نہیں پوچھتے تھے۔اُس دن اتفاق کی بات ہے کہ میں نماز کے لیے دیر سے گیا۔راستہ میں مسجد سے ساٹھ ستر گز ؤرے مجھے ایک شخص واپس آتا ہوا ملا۔میں نے اُس سے پوچھا کیا نماز ہوگئی ہے؟ اُس نے جواب دیا نماز تو نہیں ہوئی لیکن آج تو مسجد میں اتنے آدمی ہیں کہ جگہ نہیں ملی اور میں واپس آ گیا ہوں۔اُس کا جواب سن کر میں بھی واپس آ گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ مجھے ایک سبق دینا چاہتا تھا اس لیے گھر میں داخل ہے ہی ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے پوچھ لیا۔محمود ! تم نماز کے لیے نہیں گئے ؟ میں نے کہا مسجد میں اتنے آدمی ہیں کہ وہاں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔حالانکہ میں خود مسجد میں نہیں گیا تھا۔صرف اُس شخص کی بات پر میں نے یقین کر لیا تھا جو راستہ میں مجھے ملا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب بھی آگئے۔آپ نماز پڑھایا کرتے تھے۔نماز کے بعد عیادت کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ ہم پر حسن ظن رکھتے تھے اور کسی چیز کے متعلق ہم سے پوچھا نہیں کرتے تھے اور نہ تحقیقات فرماتے تھے۔لیکن جب مولوی صاحب آئے تو آپ نے اُن سے خلاف عادت پوچھا کہ مولوی صاحب! کیا آج جمعہ میں زیادہ لوگ تھے میں یہ سوال سن کر دھک سے رہ گیا۔کیونکہ مجھے ذاتی طور پر علم نہیں ہے تھا۔لیکن خدا تعالیٰ پر دہ رکھنا چاہتا تھا۔مولوی صاحب نے کہا۔حضور ! آج تو مسجد میں اتنے ہے آدمی تھے کہ تل رکھنے کو جگہ نہیں تھی۔اب اللہ جانتا ہے کہ انہوں نے مبالغہ کے طور پر یہ الفاظ کی کہہ دیئے یا واقع میں ایسا ہی تھا۔لیکن میں نے کانوں کو ہاتھ لگائے کہ آئندہ کبھی سنی ہوئی بات یقین نہیں کروں گا۔