خطبات محمود (جلد 34) — Page 348
$1953 348 خطبات محمود فلسفی کہیں گے۔لیکن جب اس کے لیے جوڑ تو ڑ شروع ہوں گے اور اس کے لیے آئینی طریقے استعمال کیے جائیں گے تو ہم کہیں گے یہ آئینی سیاست ہے۔اور جب یہ جوڑ تو ڑ غیر آئینی ہے طریقوں سے ہوں گے تو ہم اسے غیر آئینی سیاست کہیں گے۔لیکن منبع کے لحاظ سے وہ صرف فلسفہ ہوگا یا صرف مذہب ہوگا۔غرض دوسرے لوگ کچھ کہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم دنیوی حکومت نہیں چاہتے۔ہم صرف ا یہ چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیاں تبلیغ اور اشاعت اسلام میں لگ جائیں۔باقی یہ کہ کسی جگہ احمدی عالی زیادہ ہو جائیں اور جمہوریت کے لحاظ سے وہ زیادہ نمائندگی کا حق رکھتے ہوں تو یہ ہماری تحریک کا حصہ نہیں۔یہ ایک اتفاقی حادثہ ہو گا۔ہماری دلچسپی صرف اس میں ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی تبلیغ پھیل جائے اور پھر اسلام تمام ادیان پر غالب آ جائے۔جس طرح کہ وہ قدیم ایام کی میں غالب تھا بلکہ اُس سے بھی بڑھ کر۔اور اسی کام کے لیے تحریک جدید کو جاری کیا گیا ہے۔اور ی یہی کام ہر مسلمان پر واجب قرار دیا گیا ہے۔پس یہ تحریک کسی خاص گروہ سے مختص نہیں۔بلکہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصہ لے۔جو احمدی اس تحریک میں حصہ نہیں لے گا ہم اسے احمدیت اور اسلام میں کمزور سمجھیں گے۔کیونکہ جس شخص کے دل میں یہ خواہش نہیں کہ وہ اسلام کی خدمت اور احمدیت کی اشاعت کے لیے کچھ خرچ کرے اُس کا اسلام لانا یا احمدیت قبول کرنا محض بے کا رہے۔میں نے جیسا کہ پہلے بھی بتایا ہے پہلے دور والوں اور دوسرے دور والوں میں میں نے فرق رکھا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّلُوْنَ ہیں۔انیس سال کے بعد ان کے نام چھپوا کر لائبریریوں میں رکھے جائیں، جماعتوں کے اندر پھیلائے جائیں ، خود ان کے پاس یادگار کے طور پر بھیجے جائیں تا وہ انہیں اپنی زندگی میں بطور یادگار رکھیں اور اپنے بعد اپنی نسلوں کے لیے یادگار کے طور پر چھوڑ جائیں۔میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ پہلے لوگوں نے انتہائی قسم کی قربانی کی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ جماعت کے بعض مردوں اور عورتوں نے اس تحریک میں اپنی پانچ پانچ چھ چھ ماہ کی آمد لکھوادی تھی۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تحریک پہلے محدود عرصہ کے لیے تھی اور انہوں نے خیال کیا کہ چلو