خطبات محمود (جلد 34) — Page 261
$1953 261 خطبات محمود محض دھو کے بازی اور بد دیانتی ہے۔شاید ناظروں کی عقل مجھ سے زیادہ ہے۔اُن کی سمجھ میں یہ چوریاں آجاتی ہوں گی۔لیکن میری سمجھ میں یہ چوریاں نہیں آتیں۔نہ میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ ایسے تالوں پر اعتبار کیا جائے جن کی چابیاں ہر ایک کے پاس ہوتی ہیں۔اور نہ میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ مضبوط تالے لگانے کے بعد بھی کوئی شخص آئے اور ہمارے مرکز سے ایک چیز اٹھا کر لے جائے۔اس لیے میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمارے کارکن اس میں شامل ہیں۔زیادہ سے زیادہ بد دیانتی کی کے ساتھ شامل ہیں۔اور بادی النظر میں چوری کے ساتھ شامل ہیں۔بہر حال میں جماعت کو پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ سلسلہ کے قیام کی کوئی غرض ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے جو اپنا مامور بھیجا ہے وہ ہمیں دوسروں سے ممتاز کی کرنے کے لیے بھیجا ہے۔اگر ہم دوسروں سے ممتاز نہیں تو ہم کو کوئی حق نہیں کہ ہم اُن سے کہیں کہ وہ مرزا صاحب کو کیوں جھوٹا سمجھتے ہیں۔کیونکہ وہ منہ سے اُن کو جھوٹا کہتے ہیں اور ہم اپنے عمل سے ان کو جھوٹا اور کذاب کہتے ہیں۔ہم میں اور احراریوں میں کوئی فرق نہیں۔اگر فرق ہے تو صرف اتنا کہ وہ دیانتدار ہیں ، وہ اگر دل میں ایک شخص کو جھوٹا سمجھتے ہیں تو منہ سے بھی اس کو جھوٹا کہتے ہیں۔لیکن ہم اتنے بے ایمان ہیں کہ ہم دل میں تو وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو اُن کا ہے اور منہ سے سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔اگر تم واقع میں حضرت مرزا صاحب کو مانتے ہو اور اُن پر سچے دل۔ایمان لاتے ہو تو تمہیں سوچنا پڑے گا کہ تمہاری زندگیوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی۔تمہیں اب معاملات میں اور اپنی عبادات میں اور اپنی راستی میں اور اپنے فکر میں اور اپنی دیانت میں اور اپنے اعمال میں کم سے کم ایک امتیازی جد و جہد پیش کرنی پڑے گی۔اور حقیقتا ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ پیش کرنا پڑے گا۔کم سے کم میں نے اس لیے کہا ہے کہ وہ شخص جو ابھی نیا نیا احمدیت میں شامل ہوا ہے چونکہ اُسے آئے ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو اور وہ اس کے لیے جد و جہد شروع کر دے اور دو چار ماہ کے بعد اپنے اندر ایک امتیازی رنگ پیدا کر لے۔لیکن وہ شخص جو سال ڈیڑھ سال سے احمدیت میں شامل ہے اُس کے لیے صرف جدو جہد کا سوال نہیں ہوسکتا۔اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنا نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرے۔جب تک تم اس قسم کے غور اور فکر کی عادت نہیں ڈالو گے، جب تک تم میں ایسے