خطبات محمود (جلد 34) — Page 228
$1953 228 خطبات محمود کے ماتحت ایسا کرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی مذہب بد نام نہ ہوا کیونکہ لوگوں نے کہا یہ اُن کا ذاتی فعل تھا۔لیکن خدا اور اُس کا رسول بدنام ہو گئے۔غرض خدا کے کام میں اگر غلطی ہو جائے تو زیادہ بدنامی کا موجب ہوتی ہے۔اسی طرح خدا کی جماعت میں شامل ہو کر اگر کوئی غلطی کی جائے تو وہ غلطی بھی زیادہ بدنامی کا موجب ہوتی ہے۔غیر احمدی سو میں سے ننانوے نماز نہیں پڑھتا اور سب مسلمان اس کو برداشت کرتے ہیں۔لیکن اگر ایک احمدی بھی نماز نہیں پڑھتا تو سب لوگ کہنے لگ جاتے ہے ہیں کہ تم میں اور ہم میں فرق کیا ہے۔اگر ہم نماز نہیں پڑھتے تو فلاں احمدی بھی نماز نہیں پڑھتا۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارا سو میں سے ایک نماز نہیں پڑھتا اور غیر احمدیوں کے سو میں سے ننانوے نماز نہیں پڑھتے۔وہ صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو ایک خدائی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور پھر نماز نہیں پڑھتا گویا اس ایک کا فعل ساری جماعت کو بد نام کر دیتا ہے۔تو ی اللہ تعالیٰ کے کام میں حصہ لینے والوں اور خدائی جماعتوں میں شامل ہونے والوں پر بہت بڑی ہے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہے ر ہیں اور دیکھتے رہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا قدم تو نہیں اٹھایا جو خدا اور اس کے رسول کو بد نامی کرنے والا ہو۔پھر خدا تعالیٰ سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت شاملِ حال رکھے۔انسانی عقل چونکہ کمزور ہے اس لیے زندگی میں وہ کئی دفعہ غلطی بھی کر بیٹھتا ہے۔مگر اس کی بدنامی بعض دفعہ سوسو سال تک چلتی چلی جاتی ہے۔اس کا علاج صرف دعا ہے۔سورۃ فاتحہ جو ہم روزانہ پڑھتے ہیں اس میں بھی یہی دعا سکھلائی گئی ہے کہ الہی ! میں کمزور ہوں ، مجھ سے غلطیاں بھی سرزد ہوں گی اور کمزوریاں بھی ظاہر ہوں گی۔مگر تو ایسے مواقع پر اپنے فضل سے میرے ہاتھ کو روک لیا کرتی تا کہ میں کسی گڑھے میں گر کر تباہ نہ ہو جاؤں۔چونکہ اصل علم غیب رکھنے والا خدا ہی ہے اس لیے کی مومنوں کو اس سے دن رات دعائیں کرنی چاہیں کہ ہم کوئی ایسی غلطیاں نہ کر بیٹھیں جو سلسلہ کی