خطبات محمود (جلد 34) — Page 215
$1953 215 خطبات محمود یہی مقاصد ہیں جو اس جگہ کے رہنے والوں کو بھی اپنے مد نظر رکھنے چاہیں۔کیونکہ خدا جب کوئی نشان دکھاتا ہے تو اس لیے دکھاتا ہے کہ لوگ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور وہ دنیا کی بجائے دین کی خدمت میں اپنے آپ کو لگائے رکھیں۔پس ان اسٹیوں میں بسنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا ہمیشہ جائزہ لیتے رہیں اور نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرنے کی کوشش کریں۔خدا تعالیٰ کے اس عظیم الشان نشان کو دیکھتے ہوئے ان کا فرض ہے کہ اپنے چال چلن کو درست کریں اور اپنا نیک نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔اگر تم اپنا نیک نمونہ دکھاؤ کہ بغیر اس کے کہ تم اپنی زبان - ایک لفظ نکالو تو لوگوں کے دل تمہاری طرف آپ ہی آپ ٹھیک ہو جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ جو کچھ تم کہتے ہو ٹھیک ہے۔جب انسان کو دوسرے کے متعلق یقین پیدا ہو جاتا ہے تو پھر وہ اُسے جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔بعض دفعہ بیویاں جھوٹی ہوتی ہیں مگر انہوں نے اپنے خاوندوں کو دھوکا دیا ہوا ہوتا ہے اور خاوند اُن کی شرافت کے قائل ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں اگر دس شریف آدمی بھی مل کر کہیں کہ تمہاری بیوی جھوٹ بولتی ہے تو وہ کبھی نہیں مانتے۔اسی طرح بعض بیویوں کو اپنے خاوند پر یقین ہوتا ہے۔اگر ان کی بیویوں کو کہا جائے کہ تمہارے خاوند نے فلاں جرم کیا ہے تو وہ کہیں گی کہ ایسے کہنے والا جھوٹ بولتا ہے ہمارے خاوند تو بڑے نیک اور پاک باز ہیں۔غرض جب کسی شخص کے متعلق یقین پیدا ہو جائے تو انسان اس کے متعلق اپنے عقیدہ میں ایسا پختہ ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے چلنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔پس اپنے آپ کو ایسا بناؤ کہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہاری باتوں کو ی اپنے کانوں سے سنے والا ہر شخص اس یقین پر قائم ہو جائے کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ ٹھیک ہے۔اگر تم اپنے اندر تغیر پیدا کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے متعلق ایسا یقین اور وثوق پیدا کر دو۔تو دنیا کی کوئی طاقت لوگوں کو تمہاری طرف مائل ہونے سے روک نہیں سکتی۔وہ خود بخود تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں گے اور جو کچھ تم کہو گے اُس کو صحیح اور درست سمجھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست میاں نظام الدین صاحب ہوا کرتے تھے۔انہیں حج کا بڑا شوق تھا۔سات حج انہوں نے اپنی زندگی میں کئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی دوست تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھی دوست تھے۔میاں نظام الدین صاحب ایک دفعہ حج سے واپس آئے تو لوگوں نے انہیں