خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 213

$1953 213 خطبات محمود حضور ! جو آپ کا استاد کہتا ہے وہی ٹھیک ہے۔سیبویہ صرف نحو کے لحاظ سے اسلامی دنیا میں سب سے بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے اور وہ بڑا ذہین اور ہوشیار آدمی تھا۔فوراً سمجھ گیا کہ اس سے یہ بات کہلوائی گئی ہے۔چنانچہ سیبویہ نے کہا کہ حضور! اس سے کہیے کہ یہ لفظ بول کر دکھائے۔چنانچہ جب اُس نے بولا تو اُس طرح بولا جس طرح سیبویہ کہتا تھا۔چونکہ اُس کو اِس طرح بولنے کی عادت پڑی ہوئی تھی اس لیے گو اُس نے کہہ تو دیا کہ یہ لفظ اُس طرح ہے جس طرح بادشادہ کا استاد کہتا ہے مگر بولتے وقت عادت اُس پر غالب آگئی اور وہی بات درست نکلی جو سیبویہ نے کہی تھی۔کہیں وہی بات اب بھی نہ ہو۔اس لیے عرب صاحب ! آپ یہ آیت پڑھ کر بتا ئیں۔جب عرب صاحب نے آیت پڑھی تو مجلس زعفران کا کھیت بن گئی۔کیونکہ عرب صاحب نے اُسی طرح غلط آیت پڑھی جس طرح عوام پڑھتے ہیں۔ہاں تو میں یہ واقعہ سنا رہا تھا کہ میں دریا پر سیر کے لیے گیا تو ایک شخص جو شکل وصورت سے زمیندار معلوم ہوتا تھا۔اس نے قرآن کریم کی یہ آیت بالکل صحیح پڑھی۔بِسْمِ اللهِ مَجْرَبَهَا وَ مُرْسُهَا چونکہ لوگ عموماً یہ آیت غلط پڑھتے ہیں میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس سے دریافت کرنا چاہیے کہ اس نے یہ آیت ٹھیک رکس طرح پڑھ لی۔جب کہ مسلمان عموماً اس آیت کو غلط پڑھتے ہیں۔چنانچہ میں نے ایک دوست سے کہا کہ وہ اس سے دریافت کرے کہ اس نے کہاں تعلیم پائی ہے؟ اب بجائے اِس کے کہ وہ اُس سے سیدھی طرح دریافت کرتے کہ آپ نے کہاں تعلیم پائی ہے؟ انہوں نے مختلف سوالات شروع کر دئیے۔آپ کہاں سے آئے ہیں ، کدھر جا رہے ہیں؟ کہ کام کرتے ہیں؟ اس پر اُسے غصہ آ گیا اور اس نے کہا کہ کیا آپ پولیس افسر ہیں کہ مجھ سے ایسے سوالات کر رہے ہیں؟ آپ کی جو غرض ہے وہ بتائیے۔بلا ضرورت سوالات کرنے کا کیا فائدہ ہے۔اس پر میں خود آگے بڑھا اور میں نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ میں نے ہی ان سے کہا تھا تو کہ آپ سے یہ دریافت کریں کہ آپ نے کہاں تعلیم پائی ہے۔کیونکہ آپ نے ابھی قرآن کریم کی ایک آیت بالکل صحیح پڑھی ہے۔حالانکہ بعض مولوی تک اس آیت کو غلط پڑھتے ہیں۔میرے دل میں شوق پیدا ہوا کہ میں اس بارہ میں آپ سے دریافت کروں۔مگر انہوں نے بجائے سیدھی طرح سوال کرنے کے اِدھر اُدھر کے سوالات شروع کر دئیے جس سے آپ کو تکلیف