خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 202

$1953 202 خطبات محمود باقی ہے۔اس کی زمین کی قیمت زیادہ تر چندوں سے ادا کی گئی۔اور کچھ اسی زمین کی آمدن سے اور کچھ دوستوں سے قرض لے کر۔ان زمینوں سے زیادہ اچھی آمد نہ ہونے میں کچھ ہمارے انتظام کے نقص کا بھی دخل تھا۔کیونکہ شروع میں ہمیں ایسے کارکن ملے جو زیادہ تجربہ کار نہیں تھے۔مگر اب بظاہر حالات ایسے نظر آتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ان زمینوں سے زیادہ آمد شروع کی ہو جائے گی۔کیونکہ کچھ تو اخراجات پر تصرف کر لیا گیا ہے اور کچھ زمین اس طرح درست ہو گئی ہے کی کہ اب آسانی سے اس کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ٹیلے وغیرہ کاٹ دیئے گئے ہیں، گڑھے پر کر دیئے گئے ہیں، جھاڑیاں ہٹا دیں گئی ہیں اور ایسی صفائی ہو گئی ہے کہ اب ایک نظر ڈال کر سب زمین کو دیکھا جاسکتا ہے۔جب میں پہلی دفعہ یہاں آیا ہوں تو اُس وقت اس علاقہ میں ریلوے لائن نہیں تھی۔ہم جھڈواسٹیشن پر اترے اور گھوڑوں پر سوار ہو کر یہاں آئے۔اُس وقت یہاں جنگل کی یہ حالت تھی کہ ہم حیدرآباد سے ایک موٹر اپنے لیے لے آئے تھے۔میر پور خاص کی بھی اُس وقت کوئی حیثیت نہیں تھی۔جب ہم احمد آباد سے محمود آباد گئے تو ہم نے ایک آدمی موٹر میں پہلے بھجوا دیا کہ وہ ہمارے پہنچنے سے پہلے دوستوں کو ہمارے آنے کی اطلاع دے دے۔تھوڑی دُور تک جانے کے بعد اس کی نے موٹر ٹھہرایا اور واپس آکر کہا کہ کیا آپ کی طرف سے ہم وہاں یہ بھی کہہ دیں کہ آپ کے پہنچنے کی سے پہلے دستر خوان پر کھانا لگا دیا جائے کیونکہ اُس وقت آپ کو بھوک لگی ہوئی ہوگی۔میں نے کہا تی کہہ دیا جائے۔مگر اُس وقت راستوں کی یہ کیفیت تھی کہ موٹر دو گھنٹوں کے بعد پہنچا اور ہم گھوڑوں پر ان سے پہلے پہنچ گئے۔جب موٹر وہاں پہنچا تو میں نے اُن سے مذاقاً کہا کہ آپ نے تو ہمارے لیے کھانا نہیں لگوایا مگر ہم نے آپ کے لیے کھانا لگا رکھا ہے۔پھر محمود آباد کے جنگل کی اِس قدر خطر ناک حالت تھی کہ رات کو کوئی شخص اکیلا پا خانہ کے لیے نہیں جا سکتا تھا بلکہ تین آدمی مل کر جاتے ہے تھے۔ایک پاخانہ بیٹھتا تھا اور دوسرا ہاتھ میں لالٹین لیے پچاس یا سوفٹ تک کھڑا رہتا تھا۔اور پھر اس سے پچاس یا سوفٹ کے فاصلے پر ایک اور شخص اپنے ہاتھ میں لالٹین لیے کھڑا ہوتا تھا۔اور پھر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے تھے۔یہ معلوم کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے بھی ہے یا نہیں۔کیونکہ بڑی کثرت کے ساتھ سانپ ہوا کرتے تھے۔اور کئی ایسے زہریلے ہوتے