خطبات محمود (جلد 34) — Page 195
$1953 195 خطبات محمود خرید ہی لیں۔چنانچہ روپیہ جمع ہوا اور ہم نے بعض دوست یہاں زمین دیکھنے اور شرائط وغیرہ معلوم کرنے کے لیے بھجوائے۔جب ہمارے دوست یہاں آئے اور انہوں نے شرائط معلوم کیں تو اُس وقت ان زمینوں سے لوگوں کی اس قدر بے رغبتی تھی کہ گورنمنٹ کی طرف سے جو افسر مقرر تھا اس کے نے ہماری جماعت کے دوستوں سے کہا کہ اگر احمدی جماعت اس زمین کو آباد کرنے کی کوشش کرے تو ہم اس کو کمیشن دینے کے لیے تیار ہیں۔مجھے جب ان دوستوں نے یہ رپورٹ دی تو میں نے کہا کہ کمیشن کی بجائے اگر وہ کچھ حصہ زمین کا ہی ہمیں دے دے تو یہ زیادہ اچھا ہوگا۔چنانچہ ہمارے نمائندہ نے اُس سے بات کی۔مگر چونکہ اُس وقت ان زمینوں کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی اس لیے فیصلہ ہونے میں تین چار مہینے لگ گئے۔اتنے میں کچھ گا ہک بھی آنے لگ گیا۔اس پر اس افسر نے کہا کہ اب تو ہمارا یہ ارادہ نہیں کہ ہم کسی کمیشن کے ماتحت یہ زمین دیں۔اب ہم اس زمین کو فروخت کرنے یا ٹھیکے پر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اُس وقت ہزاروں ایکڑ زمین پڑی ہے تھی اور گورنمنٹ ٹھیکے پر دے کر بھی خوش ہوتی تھی۔جو صاحب یہاں آئے تھے انہوں نے میرے پاس رپورٹ کی کہ اس طرح زمین ملتی ہے۔اُس وقت ہماری تجویز یہ تھی کہ دو حصے ٹھیکے پر لئے ی جائیں اور ایک حصہ خرید لیا جائے یا ایک حصہ ٹھیکے پر لیا جائے اور دو حصے خرید لئے جائیں۔لیکن کی اُن کی اپنی رائے یہ تھی کہ زمین خریدی نہ جائے صرف ٹھیکے پر لی جائے۔انہوں نے کہا میں نے سنال ہے کہ سندھ کی زمین کارآمد نہیں اس لیے مناسب یہی ہے کہ یہ زمین ٹھیکے پر لے لی جائے۔اس کے پر ہماری میٹنگ ہوئی کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔کچھ لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ہمیں یہ زمین خریدنی نی چاہیے ٹھیکے پر نہیں لینی چاہیے اور کچھ لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ہمیں یہ زمین ٹھیکے پر ہی لینی چاہیے خریدنی نہیں چاہیے۔میری رائے دونوں کے درمیان تھی کہ کچھ زمین خرید لی جائے اور کچھ زمین ٹھیکہ پر لے لی جائے۔جن صاحب کی یہ رائے تھی کہ یہ زمین ٹھیکہ پر ہی لینی چاہیے انہوں نے جب ہ فیصلہ سنا تو انہوں نے اپنا حصہ چھوڑ دیا اور صرف 29 حصے رہ گئے۔حصہ دار صرف سات تھے۔چنانچہ ہمارے آدمی یہاں زمین کا انتخاب کرنے کے لیے آئے اور وہ زمین جہاں اب ڈینی سراسٹیٹ ہے اس کے متعلق درخواست دے دی گئی کہ ہم پچیس ہزار ایکڑ اس جگہ سے لینا کی چاہتے ہیں۔یہ درخواست گورنمنٹ کو بھجوادی گئی۔مگر ہفتوں گزر گئے اس کا کوئی جواب نہ آیا۔