خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 181

$1953 181 خطبات محمود دکانداروں کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ انہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے یا نہیں لیا۔آخر وہ تجارت کرتے ہیں اور اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں وہ بتائیں کہ اس عرصہ میں انہیں کوئی آمدن ہوئی ہے یا نہیں ؟ کوئی نفع ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوا ہے تو انہوں نے خدا کا حق کیوں اداری نہیں کیا۔چھوٹے تاجروں کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ ہر ہفتے کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دیا کریں۔فرض کرو ان کے ایک دن میں ہیں سودے ہوتے ہیں تو سات دن میں ایک سنہ چالیس سو دے ہوئے۔اور چونکہ ہفتہ کے ایک دن کے ایک سودے کا منافع اس تحریک کے لیے رکھا گیا ہے اس لیے اس کے معنی یہ ہیں کہ انہیں اپنے نفع کا1/140 حصہ دینا پڑا۔اور ایک سو چالیسواں حصہ دینا ہر گز کوئی ایسا بوجھ نہیں جو کسی معمولی سے معمولی تاجر کے لیے بھی نا قابل برداشت ہو۔اسی طرح وہ زمیندار جن کے پاس دس ایکڑ سے زیادہ زمین ہے اُن کے لیے دوآنہ فی ایکڑ کے حساب سے چندہ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔دس ایکڑ سے کم زمین والوں کے لیے صرف ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے چندہ مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح مزارعین کے لیے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ جن کے پاس دس ایکڑ سے کم مزارعت ہو وہ دو پیسہ فی ایکڑ کے حساب سے اور اس سے زائد مزارعت والے ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے رقم ادا کریں۔اگر کوئی سولہ ایکڑ کا شت کرے تو سولہ ایکڑ کے حساب سے صرف ایک روپیہ اُسے ادا کرنا پڑے گا۔اور اگر چو بیس ایکڑ کاشت کرے تو ڈیڑھ روپیہ دینا پڑے گا۔اسی طرح مالکوں میں سے اگر کسی کے پاس سو ایکٹر زمین ہے تو ی اُسے دوسو آ نہ دینا پڑے گا۔اور اگر ہزار ایکڑ زمین ہے تو دو ہزار آنہ دینا پڑے گا۔اور سوا سیکٹر پر دو سوآنہ یا ہزارا ایکڑ پر دو ہزار آنہ دے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔یہ اس قسم کا ہلکا اور آسان چندہ ہے کہ ہنسی خوشی سے ایک لاکھ روپیہ سالانہ چندہ جمع ہو سکتا ہے۔مگر اب یہ حالت ہے کہ امریکہ میں مسجد کے لیے زمین خریدی گئی تو با وجود اس کے کہ تین سال گزر گئے اب تک زمین کی قیمت کا بھی چندہ نہیں ہوا۔پچھلے سال یہ تحریک کی گئی تو 25 ہزار چندہ جمع ہوا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری جماعت لیتی تو ایک لاکھ روپیہ سے زیادہ آنا چاہیے تھا۔36,35 ہزار پہلے آیا ہوا تھا۔گویا صرف ساٹھ ہزار روپیہ امریکہ کی مسجد کے لیے آیا ہے۔حالانکہ ایک لاکھ چالیس ہزار کی صرف زمین تھی۔