خطبات محمود (جلد 34) — Page 128
$1953 128 خطبات محمود برطانوی تھا اس لیے اُن کی وفات کی خبر ہمیں ملی تو برطانوی قونصل پولیس لے کر موقع پر پہنچے۔جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ دو نو کر وہاں کھڑے تھے۔انہیں بتایا گیا کہ انہی دونوں نے پستول کے ذریعہ انہیں مارا ہے۔چنانچہ پولیس نے آگے بڑھ کر انہیں گرفتار کر لیا۔پہلے تو وہ دونوں بڑے اطمینان سے کھڑے تھے لیکن گرفتاری کے بعد اُن کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔جس طرح ایک انسان کسی نی اچانک واقعہ سے جس کی اُسے امید نہ ہوگھبرا جاتا ہے اسی طرح وہ گھبرا کر کہنے لگے کیا آپ نے ہمیں یکھ لیا ہے؟ ہمیں تعجب ہوا کہ انہیں یہ خیال کیسے آیا کہ ہم انہیں دیکھ نہیں رہے۔ہم نے انہیں کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم تمہیں دیکھ نہیں رہے۔وہ کہنے لگے جن لوگوں کے کہنے پر ہم نے قتل کیا ہے انہوں نے نے ہمیں دو پڑیاں دی تھیں اور کہا تھا کہ قتل کے بعد تم یہ دونوں پڑیاں کھا لینا ان کے کھانے سے تم کسی کو ی نظر نہیں آؤ گے۔درحقیقت اُن پڑیوں میں زہر تھا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد ہی انہیں خون کے دست آنے شروع ہو گئے اور وہ دونوں مر گئے۔اب یہ اُن لوگوں کی حماقت تھی کہ انہوں نے سمجھا کہ ہم کسی کو نظر نہیں آتے۔اور شاید جو شخص بھی یہ واقعہ سنے گا کہے گا کہ کیا دنیا میں ایسے بے وقوف بھی ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی اور کو نظر نہیں آتے۔جیسے چھوٹے بچے سمجھتے ہیں کہ حضرت سلیمان کی ایک ٹوپی ی تھی۔اگر کوئی شخص وہ ٹوپی اپنے سر پر رکھ لیتا تھا تو وہ کسی اور کو نظر نہیں آتا تھا۔لیکن بڑی عمر کے لوگ اس وہم میں مبتلا نہیں ہوتے۔ہاں مذہب کے سلسلہ میں بڑی عمر کے لوگ بھی بعض دفعہ اس مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔وہ کی یہ تو نہیں سمجھتے کہ ہم کسی اور کو نظر نہیں آتے لیکن وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اُن کے اعمال کسی اور کو نظر نہیں آتے۔وہ جھوٹ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اُن کا یہ فعل کسی اور کو نظر نہیں آتا۔وہ ظلم کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی اور دیکھ نہیں رہا۔وہ نمازوں کے تارک ہوتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں کہ کوئی محلہ والا یہ نہیں ہے جانتا کہ وہ نمازوں کے تارک ہیں۔وہ چندے نہیں دیتے اور سمجھتے ہیں کہ سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چندے دیتے ہیں۔گویا وہ اپنے جسم کے متعلق تو یہ خیال نہیں کرتے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں ہے رہا۔لیکن جھوٹ ، دھوکا، فریب ، کینہ، کپٹ ، حسد اور ظلم کے متعلق وہ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہیں کوئی نہیں دیکھتا۔جب انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اُس کی مرض لا علاج ہو جاتی ہے۔انسان کی اصلاح کا بڑا ذریعہ یہ ہے کہ لوگ اُس کے عیوب کو دیکھیں اور اُسے کہیں کہ تم میں فلاں عیب ہے۔