خطبات محمود (جلد 34) — Page 102
$1953 102 خطبات محمود وسعت خیال نہیں پائی جاتی۔ہم نے غفلت، سستی، لا پرواہی اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے اپنے ارد گرد ایسا ماحول پیدا کر لیا ہے جو نہایت گھٹیا ہے۔ہمارا ایک پٹواری ہوتا ہے۔وہ جب تک آسمان پر نہ چلا جائے پچاس ساٹھ روپے کی نوکری نہیں چھوڑتا۔وہ ہر وقت یہ کوشش کرے گا کہ چاہے کوئی نواب ہی ہو وہ اس کی سفارش لے آئے۔تا کہ اُس کی نوکری قائم رہے۔کوئی پیر آجائے گا تو وہ کہے گا چلو جی! آپ میری سفارش کریں۔میری چالیس پچاس کی نوکری جارہی ہے یہ کسی طرح میرے ہاتھ سے نہ جائے۔کوئی ڈپٹی کمشنر خوش ہوگا تو وہ اُس سے بھی جا کر کہے گا کہ آپ میری سفارش کریں۔غرض ہم ایک ایسے ماحول میں ہیں کہ اگر ہم میں سے کسی کی چالیس پچاس روپے ماہوار کی نوکری بھی جاتی ہے تو اتنی تنخواہ والی نوکری اُسے ملنی مشکل ہو جاتی ہے۔لیکن یورپ میں دیکھ لو بڑے بڑے جرنیل، وزیریتی کہ بادشاہ بھی کتنی دلیری سے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔اور بعض ممالک میں یہاں تک حالت پہنچ جاتی ہے کہ وزارتیں بنانی مشکل ہو جاتی ہیں۔آج سے بیس سال پہلے برطانیہ کا ایک مشہور وزیر خزانہ تھا۔اس نے اپنے عہدہ سے استعفی کی دے دیا۔ہمارا تو نوکریوں پر گزارہ ہوتا ہے لیکن وہ لوگ صرف نوکریوں پر گزارہ نہیں کرتے۔اُس وقت انگریز وزیرخزانہ کو سات ہزار پونڈ سالانہ دیتے تھے۔اُس نے استعفیٰ دے دیا اور کہا مجھے ایک فرم میں ملازمت مل رہی ہے اور وہ فرم مجھے اس تنخواہ سے ساڑھے چار گنا زیادہ تنخواہ دے رہی ہے اس لیے میں وہاں ملازمت کروں گا۔چنانچہ وہ اُس فرم میں ملازم ہو گیا۔لیکن ہمارے ہاں آزا د نوکری ملنی مشکل ہوتی ہے ہے۔گورنمنٹ کی نوکری ہو تو ہو۔اس لئے جب کسی کی نوکری جاتی رہتی ہے تو وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اُس کی نوکری بحال ہو جائے اور وہ اپنی ملازمت سے چمٹا رہتا ہے۔خواہ اس کے ملک کے تمام لوگ اس پر بدظنی کرنے لگ جائیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں بدنظمی ، بے ایمانی اور دوسری کئی ای خرابیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔چونکہ ہر ایک ملازم یہ سمجھتا ہے کہ میں نے ملازمت ترک نہیں کرنی۔اس لیے جس شخص کے متعلق وہ سمجھتا ہے کہ اُس کی مدد سے اُس کی نوکری قائم رہے گی وہ اُس کی سفارش لا تا ہے اور ایسا کرنے کے لیے وہ مجبور ہوتا ہے۔لیکن دوسرے ممالک میں اس چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہاں نہ کوئی سفارش لاتا ہے اور نہ بے ایمانی کرتا ہے۔اگر کوئی کسی ملازم سے ناجائز کام لیتا ہے تو وہ استعفیٰ دے دیتا ہے اور گورنمنٹ کی ملازمت ترک کر کے کسی فرم میں ملازمت اختیار کر لیتا ہے۔وہاں