خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 86

1952 86 خطبات محمود سکتے تھے۔ان کے بچوں نے تعلیم حاصل کی۔یہ فوائد ہیں جو تمہیں مرکز میں رہنے کی وجہ سے پہنچتے ہیں۔ان کے مقابلہ میں بہت سی ذمہ داریاں بھی ہیں جو یہاں کے رہنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔علم منطق کے لحاظ سے انسان میں دو قسم کی قوتیں پائی جاتی ہیں۔بالفعل اور با لقوۃ یعنی ایک قوت ایسی ہوتی ہے جو عملاً ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔اور ایک کے سامان موجود ہوتے ہیں۔اور جب موقع ملے تو وہ قوت ظاہر ہو جاتی ہے۔اس لحاظ سے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ربوہ میں کس طرح غرباء کی مدد کی جاتی ہے۔بلکہ یہاں امراء کی بھی بالقوۃ مدد کی جاتی ہے۔کیونکہ ہوسکتا تج ہے کہ ان پر بھی کوئی وقت تنگی کا آجائے۔اور جب ان پر تنگی کا وقت آئے گا ربوہ میں ان کی امداد کے سامان بھی موجود ہوں گے۔کیونکہ ایک منظم جماعت سے انہیں بھی بوقت ضرورت امداد کی امید ہو جاتی ہے۔اسی لئے امراء بھی بالقوۃ مرکز سے امداد حاصل کر رہے ہیں۔اسلامی زکوة کی میں بھی ایک پہلو ایسا رکھا گیا ہے کہ جب کوئی امیر آدمی کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور یہ امید ہو کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے گا تو اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے زکوۃ سے مدد دی جائے۔گوایسے امراء کا مقام غرباء کی امداد کے بعد آتا ہے لیکن بہر حال ان کے لئے امداد کا رستہ کھلا ہے۔گویا ایسے امراء جن کے ذریعہ غرباء مدد حاصل کر رہے ہیں وہ بھی مرکز کے ممنون ہیں کیونکہ وہ بالقوۃ مرکز سے امداد حاصل کر رہے ہیں۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی مرکز کے ممنون کی ہیں کیونکہ وہ مرکز میں آتے رہتے ہیں اور اس سے روحانی علمی اور جسمانی فوائد حاصل کرتے ہیں۔اگر چہ وہ لوگ اس رنگ میں مدد حاصل نہیں کر رہے جس رنگ میں مقامی غرباء ، یتامی اور بیوگان حاصل کر رہے ہیں لیکن بہر حال انہیں کسی نہ کسی رنگ میں مرکز سے مددمل رہی ہے۔پھر تاجر ہیں وہ بھی مرکز سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔پچھلے دنوں میرے پاس ایک رپورٹ آئی کہ جب ربوہ میں غلہ کی تنگی ہوئی اور آٹا کی سپلائی کا انتظام کرنے کے لئے دکانداروں کی ایک کمیٹی بنائی گئی تو ایک دکاندار نے کہا سلسلہ نے کونسی میری تنخواہ مقرر کی ہوئی ہے کہ میں اس کا فلاں حکم مانوں۔حالانکہ اگر سلسلہ اسے کوئی مدد نہیں دیتا تو وہ یہاں کیوں آیا تھا۔اگر وہ یہاں آیا ہے تو بہر حال کوئی نہ کوئی فائدہ اس کے مدنظر تھا۔اس دکاندار نے کہا کہ سلسلہ مجھے کون سی تی تنخواہ دیتا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کیا یہ تنخواہ کچھ کم ہے کہ اڑھائی تین ہزار لوگوں میں سے سوائے