خطبات محمود (جلد 33) — Page 365
1952 365 خطبات محمود ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ رور ہے ہیں۔اگر ہم نہ روئے تو ہم پر بے وفائی کا شبہ کر لیا جائے کی گا۔یہ خیال کر کے وہ بھی رونے لگ گئے۔بڑے آدمیوں نے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے آنکھوں پر رومال رکھ کر رونا شروع کر دیا۔اتنے میں ایک بڑا وزیر آیا وہ کچھ عقلمند تھا۔وہ رویا نہیں۔اُس نے پاس والے وزیر سے دریافت کیا کہ کیا بات ہوئی ہے؟ اُس نے کہا مجھے تو علم نہیں۔میرے پاس والے وزیر رور ہے تھے اس لئے میں بھی رونے لگ گیا۔اُس نے کہا اس سے پوچھو کیا بات ہے؟ جب اُس نے اس سے پوچھا تو اُس نے کہا مجھے تو علم نہیں میرے ساتھ والا وزیر ر و ر ہا تھا۔آخر بات خا کرو بہ پر پہنچی۔اس سے دریافت کیا گیا تو اُس نے بتایا کہ میرا اسور کا بچہ مر گیا تھا مجھے وہ یاد آ گیا تو میں نے رونا شروع کر دیا۔اب دیکھو! خاکروبہ نے سور پالا تھا۔اُس کا بچہ مر گیا اور وہ محبت کی وجہ سے رونے لگ گئی۔تو اُسے دیکھ کر سا را در بار رونے لگ گیا۔اگر اُس وقت بادشاہ دربار میں آجاتا تو سب کو معطل کر دیتا کہ تم میری بدخواہی چاہتے ہو۔پس انسان میں نقل کی عادت ہوتی ہے۔ایک شخص اگر کوئی کام کرتا ہے تو اُسے دیکھ کر دوسرا بھی وہی کام کر نے لگ جاتا ہے۔پس میں جماعت کو متنبہ کر دیتا ہوں کہ جلسہ سالانہ پر وہ لوگ آئیں جو جلسہ گاہ میں بیٹھ کر تقاریر سنیں۔اور جو لوگ تقاریر نہیں سن سکتے وہ جلسہ پر ہرگز نہ آئیں ، ہر گز نہ آئیں۔پھر دوست صرف اُن غیر از جماعت لوگوں کو ساتھ لائیں جن کو وہ جلسہ گاہ میں تقاریر کے دوران میں بٹھا سکتے ہیں۔جو غیر از جماعت لوگ یہاں آکر تقاریر نہیں سنتے وہ فساد کی نیت سے یہاں آتے ہیں حصول علم کے لئے نہیں آتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بیماریاں بھی ہوتی ہیں میں ان کا انکار نہیں کر سکتا۔جو لوگ یہاں آکر بیمار ہو جائیں یا پہلے سے بیمار ہوں لیکن جلسہ پر اخلاص کی وجہ سے آجائیں اور وہ جلسہ گاہ میں سارا وقت نہ بیٹھ سکیں تو وہ بازاروں میں نہ پھریں۔دکانوں پر نہ بیٹھیں بلکہ اپنی بیرکوں یا اُن جگہوں میں بیٹھیں جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔رمضان میں ہر سال یہ شور پڑتا ہے کہ بازاروں میں کھانے پینے کی دکانیں بندر ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر کھانے پینے کی عام اجازت ہو تو بچوں اور دوسرے لوگوں کی نظر میں روزہ کی کوئی اہمیت نہ رہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ بیمار بھی جلسہ گاہ میں بیٹھیں۔انہیں تندرست رکھنا ہمارا کام ہے۔انہیں اپنی صحت کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔وہ بے شک آرام کریں لیکن کچھ