خطبات محمود (جلد 33) — Page 352
1952 352 خطبات محمود کے جرنیلوں اور افسروں نے آپ کی بیعت کی ہوئی ہے؟ خلیفہ نے کہا ہاں۔حضرت امام ابو حنیفہ نے فرمایا میں کہتا ہوں ان کی بیعت پکی ہے لیکن یہ شخص کہتا ہے کہ ان کی بیعت پکی نہیں ہے۔کیونکہ اس کے نزدیک بعد میں شرط لگانا جائز ہے۔اگر آپ کے جرنیلوں اور افسروں نے آپ کی کی بیعت کر لی ہے لیکن گھر جا کر وہ اس کے ساتھ یہ شرط لگا لیں کہ آپ کی فلاں بات مانیں گے کی اور فلاں نہیں مانیں گے تو ان کے نزدیک یہ درست ہے۔اس پر خلیفہ گھبرا گیا۔باہر آ کر اُس شخص نے حضرت امام ابو حنیفہ سے کہا کہ تم تو آج مجھ کو مروانے لگے تھے۔حضرت امام ابو حنیفہ نے فرمایا تم بھی مجھے مروانے لگے تھے لیکن میں نے دونوں کی جان بچالی۔واقع یہی ہے کہ اگر عہد کرنے کے بعد اس کے ساتھ بعض شرائط لگالی جائیں تو عہد ہی ختم ہو گیا۔اسی طرح اگر ہمارے مبلغ کسی مجلس میں جائیں اور کہیں کہ ہم جہاد کے قائل ہیں لیکن جہاد کے معنی دفاع کے ہیں۔مثلاً ہم کسی امریکی مجلس میں جائیں اور کوئی امریکن یہ اعتراض کرے کہ آپ کا یہ عقیدہ درست نہیں تو ہم اُسے باغی ثابت کر دیں گے۔کیونکہ اگر وہ کہے گا کہ دفاع کے لڑنا جرم ہے تو ہم کہیں گے اگر امریکہ پر حملہ ہو گیا تو کیا تم لڑو گے یا نہیں؟ اگر وہ کہے میں لڑوں گا تو ہم کہیں گے تب تو یہ ظلم نہیں رہا ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔اور اگر اُس نے کہا کہ میں نہیں لڑوں گا تو وہ ملک کا غدار ہو جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی انگریز کہے گا کہ تمہارا عقیدہ درست نہیں تو ہم کہیں گے کہ اگر دشمن برطانیہ پر حملہ کر دے تو کیا تم دفاعی جنگ کرو گے یا نہیں؟ اگر وہ کہے گا کہ ہم دفاعی جنگ کریں گے تو مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ہم کہیں گے ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔لیکن اگر وہ کہے ہم جنگ نہیں کریں گے تو وہ اپنے ملک کاغذ ارثابت ہو گیا کہ خطرہ کے وقت بھی وہ ملک کے لئے قربانی کرنے پر تیار نہیں۔غرض کوئی ایسی قوم دنیا کی نہیں جو ہمارے اس عقیدہ پر اعتراض کرے اور پھر وہ غدار ثابت نہ ہو جائے یا جھک مار کر ہماری تائید نہ کرنے لگ جائے۔پس ہمارے مبلغ باہر جائیں گے تو یہ تعلیم پیش کریں گے۔لیکن احراری مبلغ کیا کریں گے؟ وہ وہاں جائیں گے تو کہیں گے یہ بالکل جھوٹ ہے۔جہاد کے معنی یہ ہیں کہ تلوار اُٹھاؤ اور ہر کوئی جو اسلام قبول نہ کرے اُسے قتل کر دو۔اول تو وہ اُسے اُسی وقت ملک سے باہر نکال دیں گے۔دوسرے اگر کوئی شخص سنے گا اور وہ اسلام کا مداح ہوگا تو وہ کہے گا میں تو اسلام پر ایمان لانے ہی لگا تھا مگر معلوم ہوا ہے کہ اسلام اتنا ہی۔