خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 344

1952 344 خطبات محمود میں چاہتا ہوں کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سنوں ، آپ کی ہر مجلس میں بیٹھوں تا کی کہ بعد میں آنے کی وجہ سے جو کمی رہ گئی ہے وہ پوری ہو جائے 7۔چنانچہ آپ ہر وقت مسجد میں بیٹھے رہتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سنتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اگر حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، اور دوسرے عشرہ مبشرہ کی ساری روایات بھی اکٹھی کر لی جائیں تو وہ حضرت ابو ہر سی اے کی روایتوں سے تعداد میں کم ہیں۔کیونکہ جب وہ مسلمان ہوئے تو آپ نے کوئی موقع جانے نہیں دیا۔آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر مجلس میں حاضر ہوتے تھے۔آپ نے مسجد میں ہی ڈیرہ لگالیا تا ایسا نہ ہو کہ کسی وقت غیر حاضر رہنے کی وجہ سے آپ کی باتیں سُن نہ سکیں۔تم بھی وقف کی عظمت کو سمجھو۔وقف کا بدلہ پیسوں اور عہدوں سے نہیں ملتا۔وقف کا بدلہ خدا تعالیٰ سے ملتا ہے۔سلسلہ کے ابتدائی زمانہ میں علماء نے دین کی بہت خدمت کی ہے۔لیکن اب تعلیم بھی زیادہ ہے، سامان اور سہولتیں بھی میسر ہیں لیکن علماء مسجدوں میں نہیں آتے۔دنیا کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔انہیں عہدوں اور تنخواہوں کا خیال زیادہ رہتا ہے۔یہ بات بتاتی ہے کہ انہیں صرف عہد وں اور مال سے دلچسپی ہے۔حالانکہ عہدوں سے روحانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔جن کی کاموں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے وہی کام کرنے چاہئیں اور انہی کی طرف دوڑنا چاہیے۔“ ( الفضل 4 دسمبر 1952ء) 1 سمالی لینڈ (Somaliland) سمالی لینڈ یا صومالی لینڈ ، صومالیہ کا ایک خطہ تھا جس نے 1991ء میں آزادی کا اعلان کیا مگر تا حال اسے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔اس کی سرحدیں ایتھوپیا اور جبوتی سے ملتی ہیں۔یہ لوگ عربی بولتے ہیں اور بیشتر آبادی مسلمان ہے۔وکی پیڈیا۔آزاد دائرہ معارف زیر عنوان Somaliland) 2 صحیح مسلم كتاب الحج باب المدينة تنفى خُبُثَهَا و تسمى طَابَة و طِيْبَة بخارى كتاب الأطعمة باب المؤمن يأكل في معي واحد :4 إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ( آل عمران : 56) 5 : وَلْتَكُن مِنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران : 105)