خطبات محمود (جلد 33) — Page 338
1952 338 خطبات محمود پھیر رہی ہو؟ اُس نے کہا تو یہ کیا اِس طرح بھی کھانا حرام ہو جاتا ہے؟ اچھا آئندہ میں احتیاط کی کروں گی۔پس ان کی ناواقفیت ایسی ہے کہ کوئی تعجب نہیں کہ وہ روزے رکھ لیتے ہوں اور روزہ کی حالت میں بعض چیزوں کا استعمال بھی کر لیتے ہوں۔مثلاً ہندو روزے میں چولہے کی پکی ہوئی چیز نہیں کھاتے لیکن وہ دو دو تین تین سیر خربوزے کھا لیتے ہیں ، انگور سیر بھر کھا لیتے ہیں۔اب جو شخص ہندوؤں سے مسلمان ہوا ہو۔ہو سکتا ہے کہ روزہ کی حالت میں وہ چولہے کی پکی ہوئی چیز نہ کھا تا ہو دوسری چیزیں کھا لیتا ہو۔غرض جب تک تفصیلات سے دوسری قوموں کو واقفیت نہیں ہوگی وہ صحیح طور پر اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کر سکتیں۔اس لئے ضروری ہے کہ کتب کا اُن کی جی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔ہماری منزل تو ابتدا کی ہے ابھی انتہا بہت دور ہے۔اگر ہم ابتدائی میں ہی تھک کر رہ گئے تو آخر میں ہمارا کیا حال ہوگا۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان کیا ہے کہ اس نے ابتدا میں یہ تحریک مجھ سے کی غفلت میں کروائی۔اگر وہ پہلے اس بات کا انکشاف کر دیتا کہ یہ تمہارے لئے اور تمہاری آئندہ نسلوں کے لئے ہے تو شاید تم میں سے بہت لوگ اس ثواب سے محروم رہ جاتے۔اس نے مجھ سے یہ بات چھپائے رکھی اور صرف تین سال کے لئے تحریک کروائی۔اور پھر اس صورت میں بھی حقیقت پردہ میں رکھی کہ میرے الفاظ خطبہ میں مبہم رنگ میں چھپ گئے اور بعض لوگوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم ایک سال چندہ دیں گے اور وہ آئندہ تین سالوں میں خرچ ہوگا۔لیکن جب دوسرے سال اُن سے چندہ مانگا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ یہ تحریک تین سال تک رہے گی تو انہوں نے کہا اچھا یہ بات ہے، ہم تو یہ خیال کرتے تھے کہ صرف ایک سال چندہ دینا ہے اچھا چندہ لے لو۔تین سال گزرنے پر میں نے اس تحریک کو دس سال تک بڑھا دیا تو لوگوں نے یہ خیال کر لیا ؟ کہ سات سال اور ہیں چلو اتنے سال اور چندہ دے دیں۔دس سال گزرنے پر آپ لوگ اس قابل ہو گئے تھے کہ لمبا قدم اٹھا سکیں اس لئے میں نے اس تحریک کو 19 سال تک بڑھا دیا۔چونکہ یہ فاصلہ زیادہ تھا اس لئے بعض لوگ اس دفعہ گر گئے اور انہوں نے خیال کر لیا کہ چلو دس سال کی پورے ہو گئے ہیں۔پھر جب یہ تحریک 19 سال کے قریب آئی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ سوال پیدا کیا کہ میں نے یہ کام کس غرض کے لئے جاری کیا تھا ؟ میں نے کہا یہ کام میں نے تبلیغ اسلام