خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 315

1952 315 خطبات محمود وہ کرتا ہوں۔آج کل تفسیر بھی لکھ رہا ہوں ، خطوط کا جواب بھی دیتا ہوں ، ملاقات بھی کرتا ہوں کی اور دوسرے دفتری کام بھی کرتا ہوں۔اب میں نو جوانوں کو خطاب کر کے انہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض منصبی اور قومی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی طرف توجہ کریں۔ان کے ماں باپ بھی اس وقت میرے مخاطب ہیں۔قومی زندگی نو جوانوں کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس وقت احرار کا فتنہ 1934 ء میں شروع ہوا تھا اُس وقت نہ معلوم کیا حالات تھے جن کی وجہ سے کی جماعت میں اتنی بیداری پیدا ہوئی کہ سینکڑوں نوجوانوں نے زندگیاں وقف کیں اور پھر ایسے کی حالات میں اپنی زندگیاں وقف کیں جو آج کل کے حالات سے بالکل مختلف تھے۔آج کل تو ی واقفین کے گزارے ایک حد تک معقول ہیں لیکن اُس وقت جو گزارے دیئے جاتے تھے وہ بہت قلیل تھے لیکن اس کے باوجود سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔اب جو نو جوان کی باہر جاتے ہیں انہیں علاوہ مکان اور دوسرے ضروری اخراجات کے گیارہ پاؤنڈ ماہوار دیے جاتے ہیں۔اگرچہ پونڈ کے علاقوں میں گیارہ پونڈ بھی بہت کم ہیں مگر پھر بھی مبلغ کو مکان کے اخراجات، پانی کے اخراجات، بجلی کے اخراجات وغیرہ علاوہ مل جاتے ہیں۔لیکن اُس وقت ہم انہیں اس سے بھی کم اخراجات دیتے تھے اور بعض اوقات تو کچھ بھی نہیں دیتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ جاؤ اور کام کرو۔بعض اوقات چھ سات پونڈ دے دیتے تھے اور کہتے تھے اسی رقم سے مکان، پانی ،خوراک اور بجلی وغیرہ کا انتظام کرو۔لیکن اس زمانہ میں جب احمدیت کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ شدید مخالفت اٹھی اور احمدیت سے محبت رکھنے والوں کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ اب دین کی حالت نہایت نازک ہے مجھے جماعت کے نوجوانوں میں وہ بیداری نظر نہیں آئی جو جی پہلے ان میں پیدا ہوئی تھی۔احرار کے پہلے فتنہ کے وقت تو یہ حالت تھی کہ اسے دیکھ کر سینکڑوں کی نو جوانوں نے زندگیاں وقف کر دیں۔لیکن شورش کے وقت میں میں دیکھتا ہوں کہ سینکڑوں کی نو جوانوں کا زندگیاں وقف کرنا تو ایک طرف رہا درجنوں نو جوانوں نے بھی زندگیاں وقف نہیں کی کیں۔بلکہ ہفتہ دو ہفتہ میں ایک آدھ درخواست ایسی آجاتی ہے کہ مجھے وقف سے فارغ کر دیا تی جائے کیونکہ میں تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں ایسے شخص کا چی ایمان کوئی ایمان نہیں۔اس وقت اس کے لئے دو ہی راستے کھلے ہیں۔یا تو اپنی جان کی قربانی کی