خطبات محمود (جلد 33) — Page 234
1952 234 خطبات محمود پھر ایک سوال یہ تھا کہ اگر گورنمنٹ صد را مجمن احمدیہ کو خلاف قانون قرار دے دے تو آر کیا کریں گے؟ یہ بھی فرضی سوال تھا۔اس کا ایک جواب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ یہ سوال فرضی ہے۔گورنمنٹ ایسی پاگل کیوں ہونے لگی کہ وہ یہ خلاف عقل بات کرے۔اگر میں یہ جواب دیتا تو غیر احمدیوں کے دلوں میں یہ بات گڑ جاتی کہ انہوں نے جواب سے گریز کیا ہے۔درحقیقت ان کے ارادے حکومت کے بارہ میں اچھے نہیں۔پس با وجود فرضی سوال ہونے کے میرے لئے جواب دینا ضروری تھا تا غلط نہی پیدا ہی نہ ہو۔اس لئے میں نے جواب دیا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا مذہب ہے کہ تم حکومت سے نہ لڑو۔قرآن کریم کہتا ہے کہ تم حکومت سے نہ لڑ وتم حکومت وقت کی اطاعت کرو یا اس ملک سے چلے جاؤ۔پس گو میں اس سوال کا یہ جواب دے سکتا تھا کہ یہ فرضی سوال ہے اور میں اس کا جواب نہیں دیتا لیکن سوال کرنے والے نے حکومت کو مد نظر رکھ کر یہ سوال نہ کیا تھا اُس نے یہ سوال پبلک کو مد نظر رکھ کر کیا تھا۔اور یہ پبلک مولویوں سے متاثر ہو کر میری خاموشی سے یہ نتیجہ نکالتی کہ انہوں نے کسی وقت حکومت سے ضروری لڑنا ہے تبھی جواب سے گریز کر گئے ہیں۔پس میں نے باوجو دسوال کے فرضی ہونے کے اس کا جواب دے دیا اور کہا کہ اگر گورنمنٹ نے صدر انجمن احمد یہ کو خلاف قانون قرار دے دیا تو ہم اس کا کوئی اور نام رکھ دیں گے۔حکومت آخر نام کو ہی خلاف قانون قرار دے گی۔حکومت یہ قانون تو نہیں بنا سکتی کہ سکول بنا نا خلاف قانون ہے، تبلیغ کرنا خلاف قانون ہے ، بیواؤں کی مدد کرنا خلاف قانون ہے۔اور یہی کام ہیں جو ہم کرتے ہیں۔اگر حکومت ایسا قانون بنائے گی تو دوسری حکومتیں اس پر ہنسیں گی۔پھر دوسری انجمنیں بھی اس قانون کی زد میں آجائیں گی۔پس ج میں نے اس سوال کا یہ جواب دیا کہ اگر حکومت نے صدرانجمن احمد یہ پر پابندی عائد کر دی تو اس کا نام بدل دیا جائے گا۔اِس کے سوا اور جواب کیا ہوسکتا ہے۔اگر ہم نام نہیں بدلیں گے تو ہمیں حکومت کے ساتھ لڑنا ہوگا اور حکومت کے ساتھ لڑنا ہماری تعلیم کے لحاظ سے ناجائز ہے۔اور یا پھر ہمیں اپنا کام چھوڑ دینا ہو گا ، ہمیں اسلام کی خدمت چھوڑ دینی ہوگی۔یہ چیز بھی جائز نہیں۔ب یہ دونوں چیز میں نا جائز ہیں تو وہی چیز باقی رہ گئی جو میں نے کہی ہے۔ایک شخص نے بڑا تیر مارا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ کیا ہم وہ نام چھوڑ دیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھا تھا ؟ مجھے اس پر ہنسی آگئی کیونکہ یہ نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام