خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 177

1952 177 خطبات محمود جماعت نے جوستی دکھائی ہے اس کے معنی کیا ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں۔ایک بات تو میں مان نہیں سکتا کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ جب کسی مومن کے سامنے صبر کا سوال پیدا ہوتا ہے وہ بولتا ہے اور دوسروں کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔لیکن تم خاموش بیٹھے ہو اور کی تمہیں ذرا بھی احساس نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔پھر دوسری بات بھی میں نہیں سُن سکتا۔یعنی یہ کہ تم وقت پر بزدلی دکھاؤ گے۔کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ جب جماعت پر کوئی خطرہ کا وقت آیا تو مرکز نے کی باقی جماعتوں سے زیادہ اچھا نمونہ دکھایا۔لیکن تمہارا عمل یہ ہے کہ گویا تم نے بزدلی دکھانے کا کی فیصلہ کر لیا ہے۔تم سمجھتے ہو کہ جب بھی احمدیوں کی پکڑ دھکڑ ہو گی ہم کہہ دیں گے کہ ہم احمدی نہیں کی ہیں۔ورنہ یہ ممکن ہوسکتا تھا کہ ایک یا دو ہزار آدمیوں کے اندر یہ ارادہ پیدا ہو جاتا کہ ہم نے اپنی جانیں قربان کرنی ہیں تو دشمن کھڑا رہتا ؟ مومن ایسے وقت میں یہ کوشش کرتا ہے کہ وقت آنے سے پہلے پہلے اپنی تعداد بڑھائے۔وہ دنیوی کا روبار میں اُس وقت مشغول نہیں ہوتا۔وہ جب ج جانتا ہے کہ میرے کپڑے چھین لئے جائیں گے، میرے دودھ کے برتن توڑ دیئے جائیں گے، میرا گھر ٹوٹ لیا جائے گا، آٹا اور دال تقسیم کر دیا جائے گا تو وہ ان باتوں میں محو نہیں ہوتا بلکہ اپنی تعداد بڑھانے کی فکر کرتا ہے۔وہ اپنا پیٹ بھرنے کی وجہ سے مجبور ہے کہ کوئی کام کرے۔اس لئے وہ پیٹ پالنے کے لئے کوئی نہ کوئی کام ضرور کرتا ہے لیکن اس میں محو ہو کر نہیں رہ جاتا۔وہ جی دوسروں کو صبر کی تلقین کرتا ہے اور اپنی تعداد کو بڑھانے کی فکر میں رہتا ہے تا کہ دشمن ایک ہزار کو نہ مارے بلکہ اس کی جگہ دو ہزار کو مارے۔دشمن دو ہزار کو نہ مارے بلکہ چار ہزار کو مارے مگر تم میں یہ روح نہیں پائی جاتی۔میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ رمضان مومن کو مشقت کا عادی بنانے کے لئے آتا ہے لیکن رمضان کی گزر گیا اور تم مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔رمضان کے معنی ہی ہیں شدت گرمی۔پھر اس سال ظاہری طور پر بھی سخت گرمی ہے اور روحانی تکالیف اور مصائب بھی ہیں۔لیکن تمہارے اندر گرمی پیدا نہیں ہوئی۔تم ہی بتاؤ کہ لوگ تمہارے متعلق کیا سمجھتے ہوں گے۔یہ تو شتر مرغ والی بات ہے۔شتر مرغ سے کسی نے کہا تم تو شتر ہو آؤ تم پر بوجھ لادیں، تو اُس نے کہا میں شتر نہیں، مرغ ہوں، لیکن جب اُسے کہا گیا کہ تم مرغ ہو تو اُڑ و تو اُس نے کہا میں مرغ تو نہیں اونٹ ہوں۔یہ کیفیت کسی معقول انسان کی نہیں ہو سکتی۔یا تو یہ مانا تھی