خطبات محمود (جلد 33) — Page 106
1952 106 خطبات محمود باہر سے شامل ہونے والوں کو نظر انداز کر دو تب بھی اولاد کے ذریعہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کی کے فضل سے ترقی کر رہی ہے۔عام طور پر ایک ایک آدمی کے تین تین چار چار بچے ہوتے ہیں۔اگر پچھلے کو ایک قرار دیا جائے تو آنے والوں کو ہم تین چار ضرور کہیں گے یا کم سے کم دو گنے ضروری ہوں گے۔پھر ملک کی اقتصادی حالت جس طرح ترقی کر رہی ہے اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے یقیناً کی پچھلا شخص اگر دس روپے کماتا ہے تو اگلا ہیں روپے کمائے گا۔پس اگر ایک شخص کے دو بیٹے ہوں کی تو سمجھنا چاہیئے کہ باپ اگر دس کماتا تھا تو بیٹے چالیس کمائیں گے۔گویا ان کی قربانی پہلوں سے کم سے کم چار گنا ہونی چاہیے۔مگر تحریک جدید کے چندہ کو لے لو تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ پہلے لوگ جو تھے اُنہوں نے تین لاکھ تک اس چندہ کو پہنچایا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ نئے آدمیوں کو اس کی حساب سے بارہ لاکھ تک چندہ پہنچانا چاہیئے تھا مگر ان کا چندہ ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچا ہے۔گو یا دفتر دوم میں شامل ہونے والے پہلوں سے قریباً نواں حصہ قربانی کر رہے ہیں۔اگر ان کی جی مالی حالت کی زیادتی کو دیکھا جائے ، اگر ان کی تعداد کی زیادتی کو دیکھا جائے اور پہلوں کے مقابلہ پر اسے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ نواں حصہ قربانی کر رہے ہیں۔گویا وصیت جس کو اموال بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا وہ وصیت والا طریق اولاد نے اس رنگ میں اختیار کر لیا ت ہے کہ باپ جتنی قربانی کرتا تھا بیٹا اُس کا نواں حصہ قربانی کرتا ہے۔اس کی ذمہ داری یقیناً ہمارے سکولوں اور کالج پر ہے۔اگر وہ نوجوانوں میں صحیح روح پیدا کرتے ، اگر وہ سلسلہ سے تعاون کرتے اور کوشش کرتے کہ ان میں پہلوں سے زیادہ قربانی کا مادہ پیدا ہو تو یہ نتیجہ بھی پیدا نہ ہوتا۔ظاہر ہے کہ ہمارے سکولوں اور کالج نے صرف اتنا سمجھ لیا ہے کہ نتیجے اچھے دکھا دو۔وہ بھی کوئی خاص طور پر اچھے نہیں۔لیکن اگر ہم نے نتائج ہی اچھے دکھانے ہیں تو پھر جماعت کو ان پر اس قدر روپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔جتنا احمدی طالب علم ہمارے سکولوں اور کالج کی میں پڑھتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ احمدی لڑکا دوسرے کالجوں اور سکولوں میں تعلیم پاتا ہے۔اگر نولڑ کے دوسرے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں اور ایک لڑکا ہمارے سکول میں پڑھ رہا ہے تو ایک بھی دوسرے سکول میں پڑھ سکتا ہے اس پر ہزاروں روپیہ سالانہ جماعت کو خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ہماری غرض تو یہ تھی کہ اس طرز پر جماعت کے نو جوانوں کو زیادہ سے زیادہ جماعتی اور کی ملی روح سے بھرا جائے۔اور جب اس تجربہ کی بناء پر ان کے اخلاص اور ان کی قربانی میں ترقی ہو تو کی