خطبات محمود (جلد 33) — Page 46
1952 46 7 خطبات محمود ہمیشہ اپنے کاموں میں محبت اور عقل کا توازن قائم رکھو (فرموده 7 مارچ 1952ء بمقام ناصر آبادسندھ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں عقل اور محبت کے دو نتیجے ہوا کرتے ہیں۔عقل یہ کہتی ہے کہ جس رنگ میں کوئی سچائی پائی جائے اُسی طرح اُس کو مانا جائے۔اور محبت یہ کہتی ہے کہ جس حد تک ہو سکے جس سے پیار ہو اُس کی طرف عیب منسوب نہ ہونے دیا جائے۔یہ دونوں چیزیں مل کر دنیا میں امن پیدا کرتی ہیں اور انسان کے لئے ترقی کے رستے کھولتی ہیں۔اگر خالی عقل پر ہی بنیا د رکھی جائے اور محبت اور ہمدردی کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر انسان شبہ اور وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خواہ مخواہ جی چلتے پھرتے دوسرے پر بدظنی کرتا رہتا ہے۔مثلاً وہ کھانا کھائے گا تو اسے یہ وہم ہوگا کہ شاید اس میں کسی نے زہر ملا دیا ہو۔وہ کسی کے ساتھ جا رہا ہو گا تو خیال کرے گا کہ کہیں اس کا ساتھی اس کی پیٹھ میں خنجر نہ مار دے۔وہ سودا خریدے گا تو اسے یقین ہوگا کہ دکاندار نے اس کے ساتھ ٹھگی کی ہے اور جب یہ بات بڑھتے بڑھتے انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو انسان جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے۔قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص سے کسی نے کہہ دیا درزی چور ہوتے ہیں اور یہ بات ٹھیک بھی ہے کہ یہ پیشہ ہی ایسا ہے کہ اس میں بعض کترنوں کا ضائع ہو جا ناممکن ہے۔اور گرہ گرہ دو دو گرہ کی جو کتر نہیں بچ جاتی ہیں بعض لالچی درزی انہیں جوڑ کر ٹوپی یا کوئی اور معمولی چیز بنا لیتے ہیں اور اس طرح پیسے کما لیتے ہیں۔لیکن اس بات کو اتنا وسیع کر لینا کہ کوئی درزی بھی ایماندار نہیں :