خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 42

1952 42 خطبات محمود میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان میں بھی قیمت کے لحاظ سے میری بڑی جائیداد تھی لیکن اب وہ وہیں کی رہ گئی ہے۔خدا تعالیٰ کی کوئی حکمت تھی کہ میں نے یہاں زمین خرید لی۔ورنہ میں یہاں جائیداد خریدنے کا خیال نہیں کر سکتا تھا۔اگر وقت پر خدا تعالیٰ ایسا نہ کرواتا تو آج میں بالکل خالی ہاتھ ہوتا۔دراصل میں نے ایک خواب کی بناء پر یہاں زمین خریدی تھی۔اس خواب میں مجھے بتایا گیا تھا کہ میں قادیان میں ہوں اور ایک نہر کے کنارے پر کھڑا ہوں۔یکدم مجھے شور سنائی دیا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔میرے ساتھ اور لوگ بھی تھے۔میں نے انہیں کہا دیکھو ! یہ شور کیسا ہے؟ انہوں نے کہا نہر کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی دیہات اور شہر بر باد کرتا چلا جا رہا ہے اس لئے لوگ شور مچارہے ہیں۔میں نے دیکھا کہ سینکڑوں شہر برباد ہوتے چلے جاتے ہیں ، ہر طرف پانی پھیل گیا ہے۔صرف نہر کے بند کا وہ حصہ ہی محفوظ ہے جس پر ہم کھڑے ہیں۔لیکن تھوڑی دیر میں پانی کی کا ایک ریلا آیا اور بند کے اُس حصہ کو بھی جس پر ہم کھڑے تھے تو ڑ دیا اور ہم پانی میں گر کر بہنے لگے۔ہم نے نہر میں دریائے ستلج کی طرف بہنا شروع کیا یہاں تک کہ ہم فیروز پور یا اُس کے قریب کسی اور جگہ پر پہنچ گئے۔میں بہتا جاتا تھا اور خدا تعالیٰ سے دعا کرتا جاتا تھا کہ یا اللہ ! سندھ میں تو پیر لگ جائیں۔یا اللہ ! سندھ میں تو پیر لگ جائیں۔میں نے کئی دفعہ پیر لگانے کی کوشش کی لیکن پیر نہ لگے۔دریا اتنا وسیع نظر آتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کا پاٹ سینکڑوں میل کا کی ہے۔میں دعا ہی کر رہا تھا کہ ایک جگہ میرے پیر لگ گئے۔جب بیراج بنا تو ہم نے ایک کمپنی کی بنائی۔اس کمپنی میں انجمن بھی شامل تھی میں بھی شامل تھا۔اسی طرح مرزا بشیر احمد صاحب، چودھری فتح محمد سیال صاحب، چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور چودھری بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے۔ہماری غرض یہی تھی کہ ہم یہاں زمین خرید کر احمد یوں میں تحریک کریں گے کہ وہ ہم سے زمین خرید لیں۔وہ زمین خریدلیں گے اور ہم اس تجارت سے کچھ نفع اٹھا ئیں گے۔ارادہ تھا کہ فی ایکٹر پانچ روپے زائد لے کر زمین لوگوں کو دے دیں گے۔اُس وقت اس مضمون کے کئی اعلانات شائع ہوئے کہ ہمارے پاس زمین ہے کوئی احمدی خرید نا چاہے تو خرید لے لیکن باوجود اس کے کہ زمین بہت سستی تھی کوئی خریدار نہ ملا۔آخر کا ر ہم نے فیصلہ کیا ز مین ہم آپس میں تقسیم کر لیں۔چنانچہ زمین تقسیم کر لی گئی اور اس طرح یہ جائیداد بن گئی۔پھر اور احمدی آئے اور انہوں