خطبات محمود (جلد 33) — Page 39
1952 39 خطبات محمود آئیں گے تو اردو سیکھیں گے۔وہاں جا کر آپ کو اُن کی زبان سیکھنی ہوگی۔میں جب احمدیوں سے پوچھتا ہوں کہ تم تبلیغ کیوں نہیں کرتے ؟ تو وہ کہتے ہیں سندھی ہماری زبان نہیں جانتے۔حالانکہ یہ سندھیوں کا کام نہیں کہ وہ پنجابی یا اردو سیکھیں۔تم باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے ہو۔تمہارا پہلا کام یہ تھا کہ تم سندھی زبان سیکھتے۔اور اگر تم سندھی زبان سیکھتے اور پھر سندھیوں میں تبلیغ کرتے تو اب تک ہزاروں مبلغ پیدا ہو جاتے اور تمہیں بھی سندھی زبان سیکھنے کی ضرورت باقی نہ رہتی۔صداقت ایسی چیز نہیں کہ اسے سندھی قبول نہیں کر سکتا۔جس طرح قرآن کریم ہم پر حجت ہے اسی طرح قرآن کریم ایک سندھی مسلمان پر بھی حجت ہے۔جس طرح حدیث ہم پر حجت ہے وہ ایک سندھی مسلمان پر بھی حجت ہے۔سندھیوں میں ہم سے زیادہ مذہبی روح پائی جاتی ہے۔ایک سندھی مذہب کی خاطر اپنی جان پر کھیل جاتا ہے۔اس کا طریق غلط ہو تو یہ اور چیز ہے لیکن اس کی نیت نیک ہوتی ہے۔وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح اپنے خدا کو خوش کرے اور اس کے لئے و اپنی کھیتی باڑی چھوڑ دیتا ہے اور اپناد نیوی کا روبار چھوڑ کر صرف اس بات میں لگ جاتا ہے کہ کسی طرح اس کا خدا خوش ہو جائے۔یہ تین چار ہزار خر جو ہیں یہ واقف زندگی ہی ہیں۔چاہے ان کا وقف ایک لغوا اور غلط چیز کے لئے ہی ہے لیکن ان کی نیت نیک ہے۔ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح خدا تعالیٰ کو خوش کر یں۔اس کے لئے وہ دنیا کو جس کے پیچھے تم پڑے ہوئے ہو ترک کر دیتے ہیں۔یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ انہیں غلط رستہ ملا ہے۔لیکن اس کے پیچھے جو روح کام کر رہی ہے وہ قابل قدر ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ سندھی احمدیت کا اہل نہیں۔کیا وجہ ہے کہ جب اس میں تمہاری نسبت قربانی کا جذبہ زیادہ ہے وہ احمدیت کو قبول نہیں کرتا۔یہاں اسلام پہلے آیا اور مسلمان یہاں ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں۔پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت آبادی کے لحاظ سے سندھ میں مسلمان زیادہ ہیں او ر جوں جوں ہم پنجاب کی طرف چلے جاتے ہیں، مسلمانوں کی آبادی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔سوائے مشرقی بنگال کے کہ وہاں مسلمان زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔شاید اس لئے کہ وہ مسلمانوں کی سرحدی چھاؤنی تھی ، جہاں سے وہ برما اور چین وغیرہ ممالک پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔درمیان میں کہیں آٹھ فیصدی مسلمان آباد ہیں، کہیں دس فیصدی ہیں