خطبات محمود (جلد 33) — Page 29
1952 29 خطبات محمود یا اس کی وجہ سے مخالفت شروع ہو گئی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ٹریکٹ اندر ہی رکھا ہوا ہے کی جماعتوں میں بھیجا نہیں گیا۔یا کلرک نے ٹکٹ کھالئے ہیں اور پیکٹ کہیں پھینک دیئے ہیں۔یا اس طرح بھیجا گیا ہے کہ جماعتوں میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوا۔ورنہ جماعت کے اندر یہ بیداری پائی جاتی ہے کہ کوئی تغیر ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی شخص مجھے لکھ دیتا ہے کہ اس کا اثر بُرا ہوا ہے یا نیک۔اور اس طرح میں بیدار رہتا ہوں اور جماعت کے حالات کے متعلق مجھے خبر ملتی رہتی ہے۔کسی جگہ بھی کوئی خرابی پیدا ہوگی تو کوئی نہ کوئی شخص مجھے ضرور لکھ دے گا۔اگر اچھی باتیں ہوں گی تب بھی کوئی نہ کوئی شخص مجھے لکھ دے گا۔پس اگر وہ ٹریکٹ (TRACT) باہر جاتا تو کوئی نہ کوئی کی شخص یہ اطلاع دیتا کہ ہمارے پاس فلاں ٹریکٹ پہنچا ہے اور اس سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں یا ہم نے خود سے دوبارہ شائع کیا ہے۔ہر ایک جماعت میں کوئی نہ کوئی خدا کا بندہ ایسا موجود ہوتا ہے جو اس قسم کی باتوں سے مجھے اطلاع دے دیتا ہے اور مجھے جماعت کے حالات معلوم ہوتے رہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی پلان (PLAN) نہیں ہے۔جیسے جنگل میں بوٹیاں آپ ہی آپ آگ آتی ہیں۔وہ کسی پلان کے ماتحت نہیں اُگتیں۔کسی جگہ دیار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہاں کیکر آگ رہے ہوتے ہیں۔کہیں کیکر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں بیریں 1 اُگ رہی ہوتی ہیں۔کہیں گلاب کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں چنبیلی آگ رہی ہوتی ہے اور کہیں کچ چنبیلی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں گلاب آگ رہا ہوتا ہے۔وہی ہماری ترقی کی حالت ہے۔لیکن جنگل کی ترقی باغ والی ترقی نہیں ہوتی۔ترقی جنگل بھی کرتے ہیں، ترقی طوفان اور آندھیوں سے بھی ہوتی ہے، ترقی سیلاب سے بھی ہوتی ہے۔سیلاب بھی کھیتیاں پیدا کرتے ہیں اور نہریں بھی کھیتیاں پیدا کرتی ہیں۔لیکن سیلاب اور نہر کی کھیتیاں پیدا کرنے میں فرق ہے۔سیلاب کی ترقی اتفاقی ہوتی ہے۔کبھی وہ ایسی فصل میں ہوتی ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی اور تج کبھی فصل ایسی زمین میں آگ آتی ہے جو اچھی نہیں ہوتی۔لیکن نہر ایک پروگرام اور قانون کے ماتحت ہوتی ہے۔جس فصل کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے وہ اسے زیادہ پانی دیتی ہے اور جس زمین میں فصل زیادہ ہوتی ہے نہر وہاں زیادہ پانی دیتی ہے۔پس ہمیں محض ترقی سے خوش نہیں ہونا چاہیے۔ترقی سیلابوں اور طوفانوں سے بھی ہوتی۔