خطبات محمود (جلد 33) — Page 28
1952 28 خطبات محمود غرض وہ کچھ ہلے تو ہیں۔اگر چہ وہ بالکل تھوڑا ہے ہیں لیکن بہر حال ہلے ضرور ہیں۔لیکن اس کے کی مقابلہ میں تحریک جدید کے وکلاء کو اتنی بھی توفیق نہیں ملی کہ وہ بھی اتنا ہی پروگرام بنا کر پیش کر دیتے جتنا ناظروں نے پیش کیا ہے تا معلوم ہوتا کہ اُن کے دماغوں میں بھی اسی قسم کی حرکت پیدا ہوئی ہے۔یہ مرض اتنی بڑھتی جا رہی ہے کہ اگر ہم نے اسے جلدی دور نہ کیا تو یقیناً ہم اُن ترقیات کو حاصل نہیں کر سکیں گے یا یوں کہو کہ اُن ترقیات کو اپنے وقت میں حاصل نہیں کر سکیں گے جو ہماری پہنچ کے اندر نظر آتی ہیں اور جن کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے یا جس کی قابلیتیں خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر رکھی ہیں۔در حقیقت ہمارے محکمے پوسٹ آفس سے بنے ہوئے ہیں۔باہر سے خط آتا ہے کہ ہمارے لئے ایک مبلغ بھیج دو۔اگر مبلغ پاس ہوتا ہے تو وہ کہ دیتے ہیں ہم مبلغ بھیج رہے ہیں اور وہ فلاں وقت آپ کے پاس پہنچ جائے گا۔یا اگر مبلغ پاس نہیں ہوتا تو لکھ دیتے ہیں افسوس کہ کوئی مبلغ فارغ نہیں۔اگر آپ پھر یاد کرائیں گے تو ہم مبلغ بھیج دیں گے۔تو یہ ڈاکخانہ کا سا کام ہے۔خود سارے ملک پر غور کرنا اور یہ دیکھنا کہ کہاں کہاں کس کس قسم کے خیالات رائج ہیں، کس جگہ ہم عمدگی سے تبلیغ کر سکتے ہیں، کس کس جگہ ہماری مخالفت زیادہ ہے اور اسے دور کرنے کے لئے کونی سی عائلی قومی تبلیغی اور تربیتی خدمات کی ضرورت ہے اور کس طریق سے اس کا علاج کیا جا سکتا ؟ ہے، کون کون سے مضامین پبلک کے ذہنوں میں پھیل رہے ہیں جو ہمارے رستہ میں روک بن گی رہے ہیں جن کا علاج ہمیں سوچنا ہے۔یا کون سے مضامین ہیں جو ہمارے مؤید ہیں اور اُن سے ہم نے فائدہ اٹھانا ہے۔ان امور کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔محض پوسٹ آفس کا کام ہے جو یہاں کیا جاتا ہے۔باہر سے خط آیا کہ مبلغ بھیج دو۔اگر مبلغ پاس ہوا تو لکھ دیا کہ ہم مبلغ بھیج رہے ہیں اور اگر مبلغ پاس نہ ہوا تو لکھ دیا کہ ہم مبلغ نہیں بھیج سکتے۔بعض قسم کے ٹریکٹ بھی شائع ہوئے ہیں مگر چونکہ اُن کا کوئی اثر نظر نہیں آتا اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان کی اشاعت غلط طریق سے ہوتی ہے۔پچھلے دنوں ایک ٹریکٹ شائع ہوا جو نہایت اعلیٰ تھا اور اُس نے پنجاب میں ایک تہلکہ مچا دینا تھا۔لیکن مجھے کسی جماعت کی طرف بھی اطلاع نہیں آئی کہ وہ ٹریکٹ اُس کے پاس پہنچا ہے یا ٹریکٹ آیا ہے تو اُس کا کوئی اثر ہوا ہے ނ