خطبات محمود (جلد 33) — Page 366
1952 366 خطبات محمود انہیں یہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بازاروں میں جائیں اور دکانوں پر بیٹھیں۔وہ جلسہ گاہ کی سے بے شک باہر چلے جائیں لیکن اپنی بیرکوں اور بیٹھکوں میں بیٹھیں۔اگر انہیں کوئی کرانک (Chronic) بیماری 2 ہے تو الگ بات ہے ورنہ ہمارا ڈاکٹر موجود ہو گا اُس کے پاس جا کر علاج کرانا چاہیے۔بہر حال انہیں گھروں میں بیٹھنا چاہیے تا کہ دوسرے لوگ اُن کے بُرے نمونہ سے متاثر نہ ہوں۔جماعت کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ایک نظم پایا جا تا ہو۔ہمارے ہاں تو ایک شخص بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو تقاریر کے دوران جلسہ گاہ میں نہ بیٹھے۔سوائے پہریداروں کے یا اُن لوگوں کی کے جو کھانا پکانے اور کھلانے پر مقرر ہوں۔میں اُنہیں بھی کہوں گا کہ وہ اپنے فارغ وقت میں کی جلسہ گاہ میں بیٹھ کر تقاریر سنیں۔لیکن اگر وہ ڈیوٹی کے لئے جلسہ گاہ سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو ی دوسرے لوگوں کو اُن کی نقل نہیں کرنی چاہیے۔آخر 39 ، 40 ہزار افراد کا کھانا پکانا آسان امر نہیں۔39 40 ہزار افراد کے لئے بیسیوں نان پر 3 ہوتے ہیں۔بیسیوں پیڑے کرنے والے ہوتے ہیں، بیسیوں دیکھیں پکانے والے باورچی ہوتے ہیں ، سینکڑوں خدمت گار ہوتے ہیں۔39 ، 40 ہزار افراد کی خدمت کرنے والوں کی تعداد پانچ سات سو یا ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ان لوگوں کو جلسہ گاہ سے اٹھنا پڑتا ہے، انہیں اپنی ڈیوٹیوں کے سلسلہ میں ادھر اُدھر چلنا پھرنا پڑتا ہے۔اگر وہ جلسہ گاہ سے باہر نہ جائیں تو باقی لوگ بھی جلسہ نہ سن سکیں۔لیکن یہ لوگ اس لئے ڈیوٹی پر رہتے ہیں تا باقی لوگ جلسہ سن سکیں اور بچے گم نہ کم نہ ہوں۔یہ پہریدار ہی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے گم شدہ بچے مل جاتے ہیں۔پچھلے جلسہ پر ایک دوست نے سنایا کہ وہ سڑک پر جا رہا تھا کہ دوعورتیں باتیں کرتی ہوئی پاس سے گزریں۔ایک نے اپنے پاس والی عورت سے کہا تم اپنے بچہ کی پوری حفاظت نہیں کرتیں۔ایسا نہ ہو وہ گم ہو جائے۔اُس نے کہا تم پہلے سال یہاں آئی ہو میں کئی سال سے یہاں آ رہی ہوں یہاں کوئی بچہ کم نہیں ہوتا۔جو گم ہوتا ہے لوگ پکڑ کر دے جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے پہریدار ہوشیاری سے کام کرتے ہیں۔بلکہ یہاں تو بعض دفعہ دو دو دن کے بعد بھی بچے مل جاتے ہیں کیونکہ میں نے پہریداروں کو یہ ہدایت دی ہوئی ہے کہ اگر تم کسی کو بچہ اٹھائے لے جاتے دیکھ لو اور بچہ گھبرایا ہوا ہو یا وہ رورہا ہو تو تم اُسے روک لو۔اور اُس وقت تک۔