خطبات محمود (جلد 33) — Page 364
1952 364 خطبات محمود حقہ لے کر بیٹھ گئے اور اتنا حقہ پیا کہ مجھے بخار چڑھ گیا اور مجھے وہاں سے اُٹھا کر بستر پر لٹایا گیا۔حضرت اماں جان نے ہمیں حقہ پینے کی اجازت بچہ سمجھ کر دے دی اور خیال کیا کہ یونہی منہ میں لے کر چھوڑ دیں گے اور خود کسی گھر تشریف لے گئیں۔مگر ہم کھیل کھیل میں ایک دوسرے کے مقابل پر شرطیں لگا کر حقہ پیتے گئے یہاں تک کہ بخار چڑھ گیا۔پس عام طور پر لوگ ایک دوسرے کی نقل کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص چائے کی دکان پر بیٹھتا ہے تو دوسرا شخص اُسے دیکھ کر وہاں بیٹھ جاتا ہے اور سمجھتا ہے فلاں شخص یہاں بیٹھا ہے۔میں بھی بیٹھ جاؤں تو کیا حرج ہے۔پھر دو تین اور آجاتے ہیں وہ ان دونوں کو وہاں بیٹھا ہوا دیکھتے ہیں کی تو وہ بھی وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔پھر دس ہیں اور آ جاتے ہیں اور پہلے چار پانچ آدمیوں کو وہاں بیٹھے دیکھ کر وہ بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ہوتے ہوتے جلسہ گاہ سے کافی تعداد سامعین کی غائب ہو جاتی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الا ول ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے۔فرماتے تھے ایک بادشاہ کے دربار میں صفائی کرنے کے لئے ایک خاکروبہ اور ایک خاکروب آیا کرتا تھا۔اُس خاکروب اور خاکروبہ نے سور پال رکھے تھے۔اتفا قاسؤر کا ایک بچہ مر گیا۔پالے ہوئے جانور سے انسان کو محبت ہو جاتی ہے۔چاہے وہ سو ر ہو یا کوئی اور جانور۔اُن کے لئے سور کا بچہ ایسا ہی تھا جیسے ہمارے لئے گھوڑا یا کوئی اور جانور۔دربار کی صفائی کرتے ہوئے خاکرو بہ کو اُس سور کے بچے کا نجی خیال آگیا اور وہ دربار کی ایک دیوار کے ساتھ اپنا سر رکھ کر رونے لگ گئی۔اتنے میں دربار کا ایک چپڑ اسی آیا۔اُس نے خاکروبہ کو روتے ہوئے دیکھ کر یہ خیال کیا کہ خدانخواستہ اندر کوئی حادثہ ہو گیا ہے ، مجھے پتا نہیں لگا۔اگر کسی نے مجھے دیکھ لیا کہ میں رونہیں رہا تو مجھ پر بے وفائی کا ج شبہ کر لیا جائے گا اس لئے وہ بھی رونے لگ گیا۔پھر ایک اور چوب دار 1 آیا اُس نے کہا یہ دونوں رور ہے ہیں ضرور کوئی واقعہ ہوا ہے مجھے پتا نہیں لگا۔اگر کوئی شخص آگیا اور اس نے دیکھ لیا تھی کہ میں رو نہیں رہا تو وہ خیال کرے گا کہ مجھے نواب صاحب سے کوئی تعلق نہیں۔یہ خیال کر کے و بھی مصنوعی طور پر رونے لگ گیا۔پھر کلرک آئے انہوں نے بھی ان لوگوں کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔پھر چھوٹے افسران آئے ، درباری آئے اور وزراء آئے تو انہوں نے خیال کیا کہ ہمارا تو کام تھا کہ ہم ہر وقت خبر رکھیں۔لیکن ہمیں اس حادثہ کا کوئی علم نہیں ہوا۔ضرور کوئی بات