خطبات محمود (جلد 33) — Page 351
1952 351 خطبات محمود خدا تعالیٰ نے ایک کھانے کو نقدیس دے دی ہے۔اسی طرح لڑائی ایک ہی ہے اور ہر ملک لڑ تا تج ہے لیکن اگر مذہب پر حملہ ہو تو اُس وقت شریعت اس لڑائی کو نقد میں دے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اب خدا تعالیٰ بھی تمہاری مدد کرے گا ، جو شخص اس لڑائی میں مارا جائے گا وہ شہید ہوگا اور جو شخص پیٹھ پھیرے گا وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرے گا۔اس کا نام جہاد ہے۔لوگ سفر کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے ہیں۔حج بھی ایک سفر ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اسے تقدیس دے دی ہے۔لاہور، کلکتہ اور کراچی کے سفروں کو نقد یں نہیں دی۔کام ایک ہی ہے۔سفر میں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔لوگ بیوی بچوں کو چھوڑتے ہیں۔ریلوں اور جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔کچھ عرصہ باہر رہتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں۔یہی حج میں ہوتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ ایک سفر کو خدا تعالیٰ نے تقدیس دے دی اور وہ حج ہو گیا۔اور ایک سفر د نیوی اغراض کے لئے ہے اس لئے وہ سفر کا سفر رہا۔جب ہم یہ تعلیم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں جہاد کے یہ معنی ہیں تو ہر ایک اس کی تائید کرتا ہے اور تائید کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔جو شخص تائید نہیں کرے گا وہ اپنے ملک کا غدار ہوگا۔اگر ایک انگریز کہتا ہے کہ اگر کوئی تم پر حملہ کرے تو تم اُس کا دفاع کرو تو تم ذلیل ہو تمہیں ایسا نہیں کرنا چ چاہیے۔تو ہم کہیں گے کہ اگر برطانیہ پرحملہ ہوتو تو تم دشمن کا مقابلہ کرو گے یا نہیں ؟ اگر وہ کہے گا ہم مقابلہ نہیں کریں گے تو وہ غدار ہوگا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ کا کوئی دشمن تھا۔وہ بغداد کے خلیفہ کے پاس گیا اور اُسے کہا آپ امام ابو حنیفہ کو بلائے۔میں اُس سے چند باتیں پوچھوں گا اور آپ کو بتاؤں گا کہ وہ آپ کے دشمن ہیں۔خلیفہ نے آپ کو بلایا۔جب امام ابو حنیفہ دربار میں پہنچے تو اُس شخص نے خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ کے دادا ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص عہد کرے اور چند دن کے بعد اُس کے ساتھ کوئی شرط لگا دے تو یہ جائز ہوگا۔کیا ان کے نزدیک یہ بات درست ہے؟ حضرت امام ابو حنیفہ نے کہا یہ غلط ہے۔شرط عہد کرتے کی ہی لگائی جائے تو درست ہو گا۔اُس شخص نے کہا دیکھئے حضور! اِن کا آپ کے دادا کے متعلق یہ خیال ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے غلط کہا ہے۔اس پر خلیفہ غصہ میں آ گیا۔حضرت امام ابو حنیفہ نے فرمایا حضور یہ دوست جو اعتراض کر رہے ہیں اِن کا مذہب کیا ہے؟ اِن سے بھی دریافت فرمائیے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ حضور کو اپنی فوجوں پر کوئی اختیار نہیں۔پھر آپ نے کہا کہ کیا آپ