خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 281

1952 281 خطبات محمود آج سے دو یا چار ہزار سال پہلے کمیونزم کسی ملک میں پنپ نہیں سکتا تھا لیکن اب کہتے ہیں اس کا مال چھینو اور اُس کو دو، اُس کا چھینو اور اس کو دو۔دس ایکڑ زمین جس کے پاس ہے اُس کی سے لے کر دو دو ایکڑ اوروں میں تقسیم کر دو۔لیکن جب دنیا میں کسی جگہ صرف پانچ گھر تھے اور کی پچاس ہزارایکٹر زمین اُن کے ارد گرد فارغ پڑی تھی اُس وقت اگر کوئی کمیونزم کی بات کرتا تو کی پاگل سمجھا جا تا اور ہر شخص کہتا کہ اس کی پانچ ایکٹر زمین کیوں چھینتے ہو؟ پچاس ہزا را یکڑ زمین جو فارغ پڑی ہے اُس پر قبضہ کیوں نہیں کرتے۔پس کمیونزم محض اس زمانہ کی پیدائش ہے۔ہمیشہ کے لئے قانون نہیں ہو سکتا۔یہی فرق ہوتا ہے مذہب اور غیر مذہب میں۔مذہب کے علاوہ جس قدر مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ صرف مقامی اور وقتی ہوتے ہیں۔لیکن مذہب ایک دائمی صداقت ہوتا ہے۔تم کسی زمانہ میں بھی اسلام کو لے جاؤ اس پر ہمیشہ عمل کیا جا سکتا ہے۔لیکن کئی دور ایسے آئیں گے جن میں کمیونزم نہیں چل سکتا۔کئی دور ایسے آئیں گے جن میں سوشلزم نہیں چل سکتا۔کئی کی دور ایسے آئیں گے جن میں کیپٹل ازم نہیں چل سکتا۔جب کبھی ملک کی آبادی بڑھ جائے گی اور کتی دولت گھٹ جائے گی کیپٹل ازم کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔اور جب ملک کی آبادی کم ہو جائے گی اور کی ذرائع دولت بڑھ جائیں گے اُس وقت کمیونزم کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔جب ملک کی آبادی کم ہو جائے گی تو کسی سے چھینے کا کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔ہر شخص کہے گا کہ جاؤ اور زمینوں پر قبضہ کرلو۔اور جب ملک کی آبادی بڑھ جائے گی تو پھر کیپٹل ازم قائم نہیں رہ سکتا۔یہ سارے کے سیارے سوالات ملک کی آبادی کی کمی یا زیادتی سے پیدا ہوتے ہیں۔تم آبادی کو کم کر دولا زمانی کیپٹل ازم قائم ہو جائے گا اور لوگ منتیں کریں گے کہ تم زمینوں کو سنبھالو۔ہمیں تو جتنی ضرورت تھی ہم نے لے لی ہے۔لیکن جب آبادی بڑھ جائے گی تو وہی آدمی جس کے دادا پڑدادا کہہ رہے تھے کہ زمینیں سنبھا لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں وہی شور مچانے لگ جائیں گے کہ تمہارے پاس سو ایکڑ زمین ہے دس دس ایکڑ ہمیں دے دو۔پس یہ محض حالات بدلنے کے نتائج اور مجبوریاں ہیں۔لیکن مذہب ایسی چیز ہے جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔اور یہ تمام چیزیں اسی نکتہ کے ساتھ وابستہ ہیں کہ انسان کی نسل آگے ترقی کرتی اور بڑھتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح جو سچی قو میں ہوتی ہیں وہ بھی آدم کے مشابہ ہوتی ہیں اور ان کی کامیابی کا طریقہ بھی یہی ہوتا ہے کہ ان میں نئی نسلیں پیدا ہوتی ہیں۔پھر اور پیدا ہوتی ہیں ، پھر اور پیدا ہوتی ہیں کی