خطبات محمود (جلد 33) — Page 267
1952 267 خطبات محمود پتانہیں میں نے رات کو مر جانا ہے یا زندہ رہنا ہے اس لئے میں آپ کو خدا تعالی کی تعلیم کی طرف توجہ دلا دوں۔وہ سب لوگ ان کی طبیعت سے واقف تھے اس لئے اکثر جھوٹ بول دیتے تھے کہ کی اس وقت طبیعت خراب ہے یا ضروری کام ہے آپ کل صبح تشریف لائیں۔پس قرآن کریم کی تی تعلیم کے ماتحت سب سے پہلے شکایت کرنے والے کا پتا کرنا پڑتا ہے کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔کیونکہ خلیفہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ہر شکایت کرنے والے کی شکایت سنے اور اس کی تحقیقات کرتا پھرے۔شکایت کرنے والے کا درجہ معلوم ہونا چاہیے کہ آیا وہ ایسا آدمی تو نہیں جو روزانہ دوسروں پر بدظنی کرتا ہے اور ہم اُس کی باتوں پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ربوہ میں اس قسم کے پچاس ساٹھ آدمی ہوں گے۔اگر ان سب کی شکایات کی روزانہ تحقیق کی جائے تو ان کے لئے پچاس خلیفے ہونے چاہئیں تا وہ روزانہ لکھتے رہیں کہ فلاں فلاں میں یہ یہ خرابی ہے، فلاں میں یہ بحبث ہے، فلاں نے یہ کام کیا ہے اور وہ اس کی تحقیقات کرتے رہیں۔اگر اس قسم کے پچاس آدمی ربوہ میں موجود ہیں تو پچاس ہی خلیفے چاہئیں۔اور اگر بیرونی جماعتوں کو ملا کر جماعت میں ایک ہزار ایسے آدمی ہوں تو ایک ہزار خلیفے ہونے چاہئیں۔کیونکہ ان لوگوں کی طبائع تیز ہوتی ہیں؟ اور ان کو کبھی بھی سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔پس تحقیقات میں پہلی روک تو یہ ہے کہ لکھنے والے نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا یا تو میری غلطی ہے کہ اس نے اصل نام لکھا ہے لیکن میں سمجھ نہیں سکا۔اور اگر اُس نے اصل نام نہیں لکھا جیسا کہ میں نے خیال کیا ہے کیونکہ ہم نے اس قسم کا نام ابھی تک نہیں سُنا تو لکھنے والے کو معلوم ہونا چاہئے کہ اُس کا یہ فعل قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ پہلے شکان کرنے والے کی تحقیق کرو۔خلیفہ اور امراء جماعت کو اور بہت سے اہم کام کرنے ہوتے ہیں اگر ہر جگہ سے اس قسم کی چٹھیاں آتی رہیں تو جماعت کا بیڑا غرق ہو جائے۔لازما جو شخص خلیفہ ہوگا یا امیر ہو گا اُسے جماعت کے کام کرنے ہوں گے۔اور بسا اوقات اُسے انفرادی کاموں کو نی چھوڑنا پڑے گا۔اور جب افراد لاکھوں کی تعداد میں ہو جائیں تو پھر اُسے انتخاب کرنا ہوگا۔اور یہ انتخاب دو طرح سے ہوگا۔اول معاملہ اہم ہے اور اس کا ثبوت واضح ہے۔یا وہ شخص اہم ہے اور اس کی بات رد نہیں کی جاسکتی۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ بڑا محتاط ہے، راستباز ہے مخلص ہے۔اگر وہ کسی کی شکایت کرتا ہے تو لازماً اُس کی تحقیق کرنا ہوگی۔اگر یقین ہو جائے کہ شکایت