خطبات محمود (جلد 33) — Page 244
1952 244 خطبات محمود لیکن دوسرے لوگ گر جائیں گے۔کیونکہ ان میں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ درمیانی راستہ کا خیال رکھیں۔میں نے اعلان کیا تھا کہ اگر ہم نے حکومت سے ٹکرانا نہیں اور یقیناً ہم اس سے نہیں ٹکرائیں گے تو ہمیں بعض غیر اہم امور کو چھوڑنا پڑے گا۔اوّل تو آج کل کوئی حکومت ایسا قانون نہیں بنائی سکتی جس سے کسی فرد کو اس کے مذہبی فرائض سے روکا جائے۔وہ ایسا قانون اُسی وقت بنا سکتی کی ہے جب وہ ساری دنیا سے ٹکر لینے کے لئے تیار ہو جائے۔دنیا کے لوگ اب ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو چکے ہیں کہ وہ دوسری حکومت کے احکام پر نکتہ چینی کر سکتے ہیں۔بعض دفعہ بعض حکومتیں سختی بھی کرتی ہیں مثلاً ترکی نے حکم دے دیا تھا کہ مسلمان اذان ترکی زبان میں دیا کریں اور ایک حد تک حکومت نے اس قانون کو قائم بھی رکھا لیکن پھر دنیا سے متاثر ہو کر عربی زبان میں اذان دینے کی اجازت دے دی۔اسی طرح بعض اور حکومتوں نے افراد کے مذہب میں روکیں ڈالیں اور پھر یہ روکیں ہٹا دی گئیں۔روس میں بھی جو مادر پدر آزاد کہلانے کا مستحق ہے ایسے دور آتے ہیں جن میں مخالف حکومتوں کے اثر سے ڈر کر وہ بعض دفعہ مذہب کو آزادی دے دیتا ہے۔آج کل کے زمانہ اور پرانے زمانہ میں بہت فرق ہے۔پہلے زمانہ میں لوگ ایک دوسرے سے پورے طور پر آگاہ نہیں تھے اور انسانی فطرت کا خیال نہ رکھنے والا بعض اوقات زیادتی بھی کر دیتا ت تھا اور انسانی فطرت کے خلاف حکم دے دیتا تھا۔لیکن اب جبکہ ذرائع رسل و رسائل آسان کی ہو جانے کی وجہ سے دنیا کے لوگ آپس میں مل گئے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے احکام پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔اس قسم کے احکام نہیں دیئے جا سکتے۔پس جب میں نے کہا کہ اگر حکومت ہمارے کی مذہبی امور میں دخل اندازی کرے گی تو غیر اہم امور کو اہم امور کے لئے چھوڑ بھی سکتے ہیں تو یہ ایک فرضی بات تھی جو میں نے کہی۔ورنہ ایسے ممالک جو آپس میں مل کر رہنا چاہتے ہیں وہ ایسے احکام نہیں دے سکتے۔میں نے کہا تھا کہ اگر حکومت احمدی نام کو خلاف قانون قرار دیدے تو ہم احمدی ماجی مسلمان کی جگہ محض مسلمان کہلا نا شروع کر دینگے کیونکہ ہمارا اصل نام مسلمان ہے۔احمدی تو اس کے کی ساتھ صرف امتیاز کے طور پر شامل کیا گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ - 2 اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔پس جب ہمارا اصل نام مسلمان ہی ہے تو اگر کوئی حکومت کی احمدی نام پر پابندی لگائے گی تو ہم صرف مسلمان کہلانے لگ جائیں گے۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور بعض اخبارات نے بھی لکھا ہے کہ آج کل کی حکومتیں ایسی نہیں جو محض