خطبات محمود (جلد 33) — Page 208
1952 208 خطبات محمود تھا جس کے اندر تو کل اور یقین کی روح بھری ہوئی تھی۔مجلسِ سرود گی ہوئی تھی کہ پیغا مبر نے کی ہمسایہ درباری کو اس بزرگ کا پیغام سنایا کہ انہوں نے کہا ہے ہم تمہارا مقابلہ کریں گے لیکن ظاہری توپ و تفنگ اور تلواروں سے نہیں بلکہ ہم تمہارا مقابلہ رات کے تیروں سے کریں گے۔یہ فقرہ اُس در باری کے دل پر اس طرح لگا کہ اُس کی چیخ نکل گئی۔اُس نے سارنگیاں اور طبلے چھوڑ دیئے اور کہا ان تیروں کے مقابلہ کی نہ مجھ میں طاقت ہے اور نہ میرے بادشاہ میں طاقت ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ اگر تم دعاؤں پر زور دو اور اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل کر لو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے پاس وہ طاقت ہے کہ ساری دنیا بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن افسوس ہے کہ تم چشمے پر بیٹھے ہوئے پانی نہیں پیتے۔تم ندی کے کنارے بیٹھے ہولیکن تم نہاتے نہیں۔خدا کے خزانے تمہارے پاس ہیں لیکن تم انہیں لینے کی کوشش نہیں کرتے۔ارادہ اور کوشش ہی انسان کو کامیاب کرتے ہیں۔ایک دن میں نہ کوئی انسانیت میں کامل بن جاتا ہے اور نہ کوئی نبی بن جاتا ہے۔نبی بھی عام انسانوں کی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ایک عرصہ تک کی ماں کی چھاتیوں سے دودھ پیتا ہے۔پھر وہ گھٹنوں کے بل چلتا ہے، پھر وہ ایک ایک دو دو لفظ سمجھتا ہے۔کانپتے کانپتے بچوں کی طرح چلتا ہے۔اُس پر بھی بچپن کا زمانہ آتا ہے جب وہ آداب سیکھتا ہے۔پھر اُس پر جوانی کا زمانہ آتا ہے پھر اُس کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کر کے وہ خدا تعالیٰ کے فیضان کو حاصل کرتا ہے۔پس ولایت اور انسانیت ایک کی دن میں نہیں ملتیں۔انسان بھی کہیں چالیس سال میں جا کر انسان بنتا ہے۔انسان 30 ، 40 سال میں ولی بنتا ہے لیکن وہ بنتا شروع کے تجربہ کی وجہ سے ہے۔جب تک کوئی شخص پہلی جماعت میں داخل نہیں ہوتا وہ پرائمری پاس کیسے کرے گا۔جب تک وہ مڈل کی پہلی جماعت پاس نہیں کرتی لیتا وہ مڈل پاس کیسے کرے گا۔جب تک وہ ہائی کلاسز میں داخل نہیں ہوتا وہ میٹرک کا امتحان کیسے پاس کرے گا۔جب تک وہ کالج کی پہلی جماعت میں داخلہ نہیں لے گا وہ بی اے اور ایم اے کیسے بنے گا۔پس متواتر کوشش کے بغیر مدعا اور مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔پہلی جماعت میں داخل کی ہونے کے معنی کوشش شروع کرنے کے ہیں۔تم کوشش شروع کرو۔اگر تم ساری رات سوئے ہو اور دن کو بھی اس کی کسر پوری نہیں