خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 181

1952 181 خطبات محمود لیکن اس وقت لاہور سے آیا ہوں۔قادیان میں ابھی گاڑی نہیں آئی تھی بٹالہ سے گاڑی کے اوقات میں اگے آتے تھے۔لیکن جس وقت وہ میرے پاس آئے وہ اگوں کا وقت نہیں تھا۔میں کی نے کہا آپ یہاں کب پہنچے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا میں ابھی یہاں پہنچا ہوں۔میں نے پھر کہا کہ اگوں کا تو یہ وقت نہیں آپ کیسے آئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا میں پیدل آیا ہوں۔میں نے کہا کیا آپ بٹالہ سے پیدل آئے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا نہیں میں لاہور سے پیدل آیا ہوں۔میں نے کہا تج آپ لاہور سے کب چلے تھے ؟ تو انہوں نے کہا میں صبح لاہور سے چلا تھا۔میرا اندازہ یہ تھا کہ اس کی وقت ان کی عمر پچاس سال کی ہے۔میں نے کہا یہ عجیب بات ہے آپ کی پچاس سال کے لگ بھگ عمر ہے اور اتنا لمبا فاصلہ پیدل چل کر آپ آئے ہیں۔انہوں نے کہا میری عمر پچاس سال کی نہیں ایک سو دس سال کی ہے۔اب میں نے دل میں سوچا کہ یا تو یہ شخص جھوٹا ہے یا پاگل ہے۔میں نے کہا آپ کہتے ہیں کہ میری عمر 110 سال کی ہے لیکن آپ 110 سال کے نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا عمر تو میری 110 سال کی ہی ہے ہاں بعض لوگوں کے قومی مضبوط ہوتے ہیں کی میرے قومی مضبوط ہیں۔پھر انہوں نے بتایا میں جوان تھا اور میں ایک مولوی صاحب سے جو بزرگ مشہور تھے پڑھا کرتا تھا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ پشاور کی طرف حملہ کے لئے گیا۔اس کا خیال ہے تھا کہ یہ لڑائی خطرناک ہوگی اور شاید میں پٹھانوں سے عہدہ برآ نہ ہو سکوں اس لئے وہ اس کی بزرگ کے پاس آیا جس سے میں پڑھا کرتا تھا اور کہا میں پشاور کی طرف جا رہا ہوں آپ میری کامیابی کے لئے دعا کریں۔چنانچہ اُس نے میرے ایک استاد صاحب کو ایک بھینس بطور تحفہ دیا اور انہوں نے وہ بھینس مجھے دی اور کہا کہ اسے نہلا کر لاؤ۔اُس وقت میری عمر 18 سال کی تھی۔کی میرے لئے یہ بات نہایت حیرت کی تھی۔بہر حال انہوں نے بیعت کی اور چلے گئے۔کچھ عرصہ تک ان کے متعلق کوئی پتا نہ لگا۔ایک دفعہ اُس علاقہ کے ایک دوست سے ذکر ہوا۔میں نے کہانی میں خیال کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا یا حواس باختہ شخص تھا۔انہوں نے کہا وہ شخص سچا تھا۔وہ بیعت کر کے واپس گیا اور 128 سال کی عمر میں فوت ہوا ہے۔گویا 17 ، 18 سال کے بعد وہ دوست فوت ہو گئے اور غالبا یہ ملاقات کا واقعہ 1915 ء ، 1916 ء ، یا 1917 ء کا ہے۔پس ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ شاذ ہوتے ہیں۔