خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 175

1952 175 خطبات محمود اور ان کے اندرا ہم طور پر اس بات کا احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ہماری حالت اس زبان سے بھی کی بدتر ہے جو بتیس دانتوں کے اندر ہے۔کیونکہ اُس زبان کے لئے جو بہتیں دانتوں کے اندر ہے موقع ہے کہ وہ دانتوں کی ضرب سے اپنے آپ کو بچا سکے اور دانتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ ملکہ رکھا ہے کہ وہ زبان کو زخمی ہونے سے بچاتے ہیں۔مگر جن بتیس دانتوں میں تم ہو وہ تمہیں ہر وقت زخمی کرنے کے لئے تیار ہیں۔پھر تمہارے لئے بھی کوئی موقع نہیں کہ تم ان کی ضرب سے بچ سکو۔تم دیکھتے ہو کہ صبح و شام سچائی کورڈ کیا جاتا ہے، تم دیکھتے ہو کہ دشمن ہر روز ظلم کرتا ہے لیکن تم سمجھتے ہو کہ ہمیں ڈر ہی کیا ہے۔تم نے دیکھا ہے کہ 99 فیصدی مخالف بلکہ اس سے بھی زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔اگر تمہارا مقابلہ کسی خدا ترس سے ہوتا تو تم کہتے وہ خدا تعالیٰ کے خوف کو کہاں لے کے جائے گا۔لیکن تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہے وہ سو فیصدی جھوٹ کے عادی ہیں۔ان میں قطعاً نہ تقویٰ ہے نہ خدا تعالیٰ کا خوف نہ صداقت کی بیچ ہے اور نہ راستی کی عظمت اور احترام۔ان لوگوں کو دیکھتے ہوئے آخر تمہارے اندر کیا کیفیت پیدا ہونی چاہیے۔مثلاً یہی چیز ہے کہ انسان ہمیشہ گھبراہٹ سے اپنی حالت کو ظاہر کرتا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ربوہ میں ایک ہزار آدمی بستا ہے مگر اس ایک ہزار میں سے ایک شخص بھی اس مخالفت کے خلاف آواز نہیں نکالتا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ہزار میں سے کم سے کم 999 آدمی وہ ہیں جن کو پتا ہی نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔اور اگر کچھ آدمی ایسے ہیں جنہیں علم ہے کہ باہر کیا کچھ ہو رہا ہے تو ابھی تک انہیں اپنے ایمان کی فکر پیدا نہیں ہوئی۔سیدھی بات ہے کہ اگر کوئی شورش پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں انسان کے اندر دو قسم کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔اول یہ کہ اس کی اور اس کے بیوی بچوں کی موت کا وقت قریب آ گیا ہے اس لئے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔اور یا یہ کہ جب لوگ اُسے پکڑیں گے تو وہ احمدیت سے انکار کر دے گا۔یہ دو ہی باتیں ہیں جو شورش کے وقت انسان کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کے اندر اس کے خلاف دشمنی کا چی جذبہ پیدا ہو گیا ہے اور یہ کہ اس کی عزت ، مال اور قومیت خطرہ میں پڑ گئی ہے تو وہ کچھ نہ کچھ کرتا ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ربوہ میں رہنے والوں میں یہ احساس مفقود ہے۔یوں تو میرے پاس کی بہت سے لوگ آتے ہیں کہ میرا بچہ بیمار ہے اس کی صحت کے لئے دعا کی جائے۔میری مرغی نے کی