خطبات محمود (جلد 33) — Page 139
1952 139 خطبات محمود تک مجھے یاد ہے تجویز یہ ہوئی تھی کہ پیشہ ور لوگ یعنی وکلاء، ڈاکٹر اور کنٹریکٹر وغیرہ پہلے اپنے کیے گزشتہ سال کی آمد معین کریں۔اور پھر اس تعیین کے بعد اگلے سال ان کی آمد میں جو زیادتی ہواس کا دسواں حصہ وہ مسجد فنڈ میں ادا کر دیا کریں۔مثلاً ایک وکیل ہے۔پچھلے سال اس کی آمد چھ ہزار رو پی تھی۔اگلے سال خدا تعالیٰ اس کی آمد کو سات ہزار روپیہ تک پہنچا دیتا ہے۔اب اسے جو ایک ہزار روپیہ گزشتہ سال سے زائد ملا ہے اس کا دسواں حصہ وہ مسجد فنڈ کے لئے دے دے۔یا اگر چھ کا آٹھ ہزار ہو گیا ہے تو پھر دو ہزار کا دسواں حصہ دے۔اس طرح مرزا عبد الحق صاحب کی تجویز کی کے مطابق جسے بعد میں وکلاء اور ڈاکٹروں نے مان لیا تھا یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ علاوہ سالانہ آمد کی کی زیادتی کا دسواں حصہ دینے کے وہ بجٹ کے سال کے پہلے مہینہ یعنی ما مئی کی آمد کا پانچ فیصدی کی مسجد فنڈ میں ادا کیا کریں یہ اسی طرح ایک تجویز یہ بھی پاس ہوئی تھی کہ تمام ملازم خواہ وہ گورنمنٹ کی ملازمتوں میں ہوں یا دوسرے اداروں میں کام کرتے ہوں ہر سال جو انہیں سالانہ ترقی ملے اُس میں سے پہلے مہینہ کی ترقی وہ مساجد کی تعمیر کے لئے دے دیا کریں۔مثلاً ایک شخص کو دس روپیہ سالانہ ترقی ملی ہے۔اب فرض کرو اس نے ہیں سال اور ملازمت کرنی ہے تو اُس کو تو بائیس سو ملیں گے۔اور اسے مسجد کے لئے ہیں سال میں دو سو روپے دینے پڑیں گے۔اسی طرح یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ جب کوئی شخص پہلی دفعہ ملازم ہو تو وہ پہلی تنخواہ ملنے پر اُس کا دسواں حصہ مسجد فنڈ کے لئے دے دیا کرے۔زمینداروں کے متعلق چندہ کی جو تحریک کی گئی تھی اُس کا حساب کچھ غلط ہو گیا تھا۔بعد میں میں نے غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ زمینداروں پر بہت زیادہ بوجھ پڑ گیا ہے۔ان کے لیے ہر فصل کی قیمت کا دسواں حصہ بطور چندہ مقرر کیا گیا تھا مگر یہ بوجھ پیشہ وروں اور ملازموں کی نسبت زیادہ بن جاتا ہے۔اب میں نے سوچا ہے کہ وہ فی ایکڑ صرف دو آنے دے دیا کریں ہ اس کی حکمت انہوں نے یہ بتائی تھی کہ بعض پیشہ وروں کی آمد بڑھے گی نہیں اور وہ ثواب سے محروم رہ جائیں گے۔میں نے خطبہ میں ایک آنہ کہا تھا لیکن بعد میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اس حساب سے الہ کا حصہ بہت کم ہو جاتا ہے۔سو خطبہ درست کرتے ہوئے میں نے دوآنہ فی ایکڑ تجویز کیا ہے اور یہ بھی کوئی خاص بوجھ نہیں۔ہاں جن کی زمین دس ایکڑ سے کم ہو اُن کے لیے وہی ایک آنہ فی ایکڑ چندہ مسجد کا ہوگا۔