خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 125

1952 125 خطبات محمود مظالم ہو رہے تھے ان کو اُس نے دور کیا تھا اس لئے ہندو اور مسلمان سب اس سے محبت رکھتے ہی تھے۔پس ان لوگوں کے لئے جو لاہور کے رہنے والے تھے اور سیاسیات کو سمجھتے تھے اور جنہیں سکھوں کے انتہائی مظالم اور لوٹ مار کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں امن میسر آیا تھا یہ کی صدمہ واقع میں پریشان کن تھا۔لیکن چوہڑے کے پاس تو کچھ تھا ہی نہیں اُسے سکھوں نے کوٹنا تج کیا تھا۔مسلمانوں کے پاس دولت تھی اس لئے سکھ انہیں کو ٹا کرتے تھے۔لیکن چوہڑا جو ایک گاؤں میں رہ رہا تھا اُس کا تو یہی کام تھا کہ ٹوکری اٹھائے اور گھر آ جائے یا مزدوری کرے اور کی واپس آجائے۔اور مزدوری کے لحاظ سے ایک ہندو بھی اسے من ڈیڑھ من بوجھ اٹھواتا اور ایک کمی مسلمان بھی اسے اتنا ہی بوجھ اٹھوا تا اور اس کے بعد اسے روکھی سوکھی روٹی اور پیاز دے دیتا یا چند پیسے دے دیتا اور وہ گھر چلا جاتا۔پس اس کے نزدیک تو نہ پنجاب میں کبھی کوئی فساد ہوا تھا اور نہ کسی نے اسے دور کیا۔اس نے جو اتنے بڑے لوگوں کو پریشانی کے عالم میں ادھر اُدھر پھرتے دیکھا تو اس نے حیران ہو کر پوچھا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اس طرح رو ر ہے ہیں؟ کسی نے کہا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گیا ہے۔اب اُس کے لئے یہ بات اور بھی زیادہ کی تعجب خیز تھی کہ ایک آدمی کے مرنے پر اتنے آدمی رونے لگ جائیں۔وہ سر پہ ہاتھ رکھ کر کہنے لگا کہ پتا نہیں لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔باپو جیسے مر گئے تے رنجیت سنگھ بیچارے دی کی حیثیت ہے۔یعنی جب میرے باپ جیسے لوگ مر گئے تو مہاراجہ رنجیت سنگھ بیچارے کی کیا حیثیت تھی۔گویا اُس چوہڑے کے نزدیک دنیا کی بہترین چیز یا نظم کو قائم رکھنے والی طاقت اُس کا باپ تھا کیونکہ وہ مج اپنے ماحول میں اس سے زیادہ حیثیت کسی چیز کی سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔لیکن اگر غور کریں تو رنجیت سنگھ کی حیثیت بھی دنیا کے مقابلہ کیا تھی۔لا ہور کے رہنے والے صرف اپنے ماحول کو دیکھتے تھے۔ان کو بھی دنیا کے مستقبل یا دنیا کی طاقتوں کا کچھ علم نہیں تھا۔جب مہاراجہ رنجیت سنگھ ہوا ہے اُس وقت انگریزوں کی ایک کمپنی ہندوستان میں حکومت کر رہی تھی اور یورپین قوموں کو اتنی طاقت حاصل تھی کہ ان کی ایک بریگیڈ لا ہور والوں کو شکست دے سکتی تھی۔پس ان کے سامنے بھی صرف اپنی مشکلات تھیں۔نہ یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ کی طاقت ان کے سامنے تھی ، نہ فرانس کی طاقت ان کے سامنے تھی ، نہ جرمنی کی ج