خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 123

1952 123 خطبات محمود بھی روٹی یا پھل لینے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو ماں باپ اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔اسی طرح کی نیچر نے ہمارے سامنے ترقیات کا ایک غیر محدود میدان رکھا ہے مگر اس کے لئے تدریج اور ارتقاء کا پہلو ساتھ ساتھ رکھا ہے تا کہ شوق ترقی کرے انسانی ہمت بڑھے اور اس کا حوصلہ وسیع ہو۔جب ترقی کا ایک قدم ہم طے کر لیتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے سب کچھ پالیا لیکن وہاں پہنچتے ہی ایک اور چوٹی نظر آتی ہے اور ہمیں کہا جاتا ہے ہمت کرو اور اس چوٹی تک پہنچو۔چنانچہ ہوتے ہوتے ایک دن ہم مونٹ ایورسٹ کی چوٹیوں پر پہنچ جاتے ہیں، ہوتے ہوتے ہم نالوں اور کی دریاؤں اور سمندروں کو پار کر لیتے ہیں، ہوتے ہوتے ہم اپنی روحانی اور اخلاقی اور تمدنی مشکلات کو حل کر لیتے ہیں۔مشکلات بھی کبھی انتہائی رنگ میں انسان کے سامنے نہیں آتیں۔ہمیشہ قدم بقدم اس کے سامنے آتی ہیں اور وہ قدم بقدم ان پر غالب آتا چلا جاتا ہے۔دنیا میں بڑی سے بڑی جنگ بھی ہو رہی ہو تو ایک دو سال کا بچہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ دنیا کے سامنے کون سی مشکلات ہیں۔ایک چھوٹے بچہ کے سامنے سب سے بڑی مشکل یہی ہوتی ہے کہ میں کسی طرح چند قدم چلنے لگ جاؤں۔میں ابا یا اماں کا لفظ بول سکوں۔لڑائیاں ہو رہی ہوں، ملک تباہ ہو رہے ہوں ، جانیں ہلاک ہو رہی ہوں، بچے کے نزدیک اس کی سب سے بڑی مشکل یہی ہوتی ہے کہ میں ابا اور اماں کا لفظ صحیح بول لوں یا میں اپنی ٹانگوں سے ایک دو قدم چل لوں۔آخر ایک دن آتا ہے کہ وہ ان مشکلات کو حل کر لیتا ہے اور اب اس کی عمر تین چار سال کی ہو جاتی ہے ، اب اس کا ذہن پہلے سے زیادہ روشن ہوتا ہے اور اس کی مشکلات بھی پہلے سے مختلف ہوتی ہیں۔اب اس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ الف اور ب لکھ لے۔اس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ قاعدہ یسر نا القرآن پڑھ لے۔اب بھی وہ بائرن 5 (Byron) کا کلام نہیں سمجھ سکتا۔وہ ٹینی سن (Tennyson) کے کلام کو سمجھنے کی استعداد نہیں رکھتا، وہ کیٹس (Keats) کے کلام کو نہیں سمجھتا۔وہ ورڈز ورتھ (Wordsworth) کے کلام کو نہیں سمجھتایا ہمارے ملک کے لحاظ سے وہ غالب 9 یا مومن 10 یا ناسخ 11 کا کلام سمجھنے کی استعداد نہیں رکھتا۔اس کے نزدیک ٹینی سن (Tennyson) کے کلام کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔ناسخ اور غالب کا کلام اس کے نزدیک بے معنی ہوتا ہے۔وہ سعدی 12 اور حافظ 13 اور عرفی 14 کے کلام سے بیگانہ ہوتا ہے۔وہ