خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 87

1952 87 خطبات محمود چند ایک کے سلسلہ نے سب کو رہنے کے لئے مکانات بنا کر دئیے تھے۔دکانداروں کے پاس تھی د کا نہیں نہیں تھیں سلسلہ نے انہیں دکانیں مہیا کیں۔حالانکہ خود اس کا خزانہ خالی تھا، اس کی کی جائیدادیں تباہ ہو گئی تھیں، اس کے ادارے تباہ ہو گئے تھے۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود قریباً تی 95 فیصدی دکانداروں کو سلسلہ نے اُس وقت دکانیں بنا کر دیں جب وہ خود دیوالیہ ہو چکا تھا۔یہاں رہنے والوں کے پاس جو مکانات ہیں اُن میں سے قریباً 95 فیصدی مکانات وہ ہیں جو سلسلہ نے بنا کر دیئے ہیں۔اور اُس وقت بنا کر دئیے جب وہ خود دیوالیہ ہو چکا تھا۔تم ذرا کشمیر کے مہاجروں کی حالت دیکھو۔باوجود اس کے کہ ایک زبر دست حکومت ان کی مدد کر رہی ہے جس کا سالانہ بجٹ ڈیڑھ ارب روپیہ کا ہے پھر بھی وہ مہاجر جوخو دحکومت کے مہمان ہیں اب بھی بچ چھپروں میں رہ رہے ہیں۔اگر سلسلہ ان کی امداد نہیں کرتا تو وہ واہ 1 اور مانسر 2 میں کیوں نہیں گئے۔پس سلسلہ نے انہیں ضرور تنخواہ دی ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ اس تنخواہ کی شکل اور ہے۔مرکز نے انہیں وہ فائدہ پہنچایا ہے جو وہ کہیں اور جگہ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ انہیں آکر بنا بنایا گا ہک ملا۔یہ بھی سلسلہ کی طرف سے ایک تنخواہ ہے جو ربوہ کے کی ہر دکاندار کومل رہی ہے۔آخر وہ کون ہوتے ہیں جو ان سے سودا خریدتے ہیں؟ وہ سلسلہ کے ہی کچ فرد ہوتے ہیں۔اور انہی کا نام سلسلہ ہے۔پھر اکثر دکانداروں کو دکانیں اور مکانات سلسلہ نے دیئے ہیں۔اگر یہ دکانیں اور مکانات نہ ہوتے تو کیا وہ روپیہ کما سکتے تھے؟ پھر اگر سلسلہ کے ادارے یہاں نہ ہوتے تو کیا یہ لوگ یہاں آتے؟ کیا یہ سلسلہ کی طرف سے ان کی امداد نہیں ہو تی رہی ؟ پھر سلسلہ اس سے اپنے لئے کچھ نہیں مانگتا تھا بلکہ وہ گا ہک کا حق مانگتا تھا۔سلسلہ اسے یہ نہیں کہتا تھا کہ چندہ زیادہ دو یا اپنے وقت میں سے دو گھنٹے سلسلہ کو دو۔بلکہ وہ یہ کہتا تھا کہ جس گا ہک سے تم نے تین سال تک روپیہ کمایا ہے آج جب اس پر تنگی کا وقت آیا ہے تو اس سے ناجائز مطالبہ نہ کرو اور اس کا گلا نہ گھونٹو۔سلسلہ اس سے اپنے لئے کچھ نہیں مانگتا تھا بلکہ وہ اس گا ہک کے لئے کچھ مانگتا تھا جس کے پیسے سے دکاندار نے کپڑے پہنے ہیں ، جس کے پیسے سے اس نے روٹی کمائی ہے۔سلسلہ نے صرف یہ کہا تھا کہ جس گا ہک سے تم نے پچھلے سالوں میں روپیہ کمایا ہے آج جی اُسے فائدہ پہنچاؤ۔آج جب گندم ملنی مشکل ہے تم اسے ٹھیک قیمت پر گندم سپلائی کرو۔یہ نہیں کہ کی۔