خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 61

خطبات محمود وو ،، وو 61 1952 ” ہے کو ”نہیں“ کہہ دینا اور ”نہیں“ کو ” ہے" کہہ دینا بھی ایک فن ہے۔پھر جب بچہ بڑائی ہو جاتا ہے اور چلنے پھرنے لگ جاتا ہے تو ماں باپ سمجھتے ہیں کہ فلاں چیز کھانے سے بچہ کو بد ہضمی ہو جائے گی اس لئے وہ پلیٹ چُھپا لیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ چیز ختم ہو گئی۔حالانکہ وہ الماری، صندوق یا باورچی خانہ میں پڑی ہوئی ہوتی ہے۔بچہ جانتا ہے کہ وہ چیز چھپا لی گئی ہے اور سمجھتا وو وو وو ہے کہ یہ بھی ایک فن ہے کہ ” ہے“ کو ”نہیں“ اور ”نہیں“ کو ” ہے“ کہہ دیا جائے۔یا مثلاً ماں باہر گئی ہوتی ہے، بچہ روتا ہے تو بہن بھائی اُس کا دل بہلانے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ اماں آ رہی ہے۔لیکن یہ بات واقعہ کے خلاف ہوتی ہے۔بچہ جانتا ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔اور سمجھتا ہے کہ یہ بھی ایک عمدہ ترکیب ہے کہ ” ہے“ کو ”نہیں“ کہہ دیا جائے اور ”نہیں“ کو ہے کہہ دیا جائے۔پھر مذاق شروع ہو جاتا ہے۔ماں باپ یا بہن بھائی مذاقاً ” ہے" نہیں“ اور ”نہیں“ کو ” ہے“ کہہ دیتے ہیں اور بچہ سمجھتا ہے کہ ضرورتا ہے کو نہیں نہیں“ کو ” ہے“ کہا جاسکتا ہے۔تم اسے گھوڑا دیتے ہو اور پوچھتے ہو یہ کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے ؟ گھوڑا ہے۔وہ جانتا ہے کہ یہ اصلی گھوڑا نہیں لیکن تم اس سے ”نہیں“ کو ” ہے“ کہلوا رہے ہو۔پس ماں باپ بچہ کو جھوٹ کی تربیت دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وقت گزر جائے گا یا بچہ رو رہا ہے تو اُس کا دل بہل جائے گا۔لیکن بچہ کے دماغ میں گولفظی طور پر جھوٹ نہیں آتا مگر وہ یہ سمجھتا ہے ضرور ہے کہ تم نے ”نہیں“ کو ” ہے “ اور ” ہے“ کو ”نہیں“ کہہ دیا ہے اور بڑے ہو کر اسے جھوٹ کی عادت ہو جاتی ہے۔اور جب وہ سمجھتا ہے کہ جھوٹ بولنے سے عارضی فائدہ ہو جاتا ہے تو وہ جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے۔وو وو پھر غصہ، لالچ ، محبت اور خوف بھی جھوٹ میں ممد ہو جاتے ہیں۔غصہ کی حالت میں جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ اُس کا دشمن طاقتور ہے اور وہ اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو وہ کہہ دیتا ہے یہ جھوٹ بولتا ہے۔یا وہ کسی پر افترا کرتا ہے اور اسے گورنمنٹ پکڑ لیتی ہے تو وہ کہتا ہے میں نے تو ایسا نہیں کیا۔اسی طرح لالچ ہے۔انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ فلاں چیز بڑی عمدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کاش ! وہ چیز میرے پاس ہو لیکن وہ اسے حاصل نہیں کر سکتا تو عدالت میں جا کر جھوٹ بول دیتا ہے اور کہ دیتا ہے کہ یہ چیز میری ہے۔فلاں شخص نے زبر دستی مجھ سے چھین لی ہے۔حالانکہ