خطبات محمود (جلد 33) — Page 41
1952 41 خطبات محمود دیکھا کہ ایاز نے خزانہ کے خاص کمرے کا دروازہ کھولا۔یہ دیکھ کرمحمود کوسخت حیرت ہوئی کہ میں چ نے تو اس پر اعتماد کیا تھا اور اس اعتماد کی وجہ سے میں نے اسے اس عہدہ پر پہنچا دیا تھا لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص اس اعتماد کے قابل نہیں تھا۔ایاز کمرہ کے اندر چلا گیا اور دروازہ بند کر دیا۔بادشاہ دروازہ کے سوراخوں میں سے دیکھتا رہا۔اس کمرہ میں ایک خاص صندوق تھا۔اس میں قیمتی اشیاء رکھی ہوئی تھیں۔ایاز نے وہ صندوق کھولا۔اس پر بادشاہ کا طبہ اور پختہ ہو گیا۔لیکن کچ اس نے فیصلہ یہی کیا کہ جب تک وہ سارا واقعہ دیکھ نہ لے ایاز پر کوئی سختی نہیں کرے گا۔ایاز نے کی وہ بکس کھولا اور اس سے ایک گٹھڑی نکالی اور اس میں سے پھٹے پرانے کپڑے نکالے اور پہن کر کچ پھر مصلے بچھا کر اس پر نماز پڑھنی شروع کر دی اور خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے نہایت گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرنے لگا کہ اے خدا ! میں اُس دن کو نہیں بھولا جب میں ان چیتھڑوں میں ملبوس اس شہر میں داخل ہوا تھا۔اے خدا! تو نے مجھ پر احسان کیا اور افسر خزانہ کے بلند عہدے پر پہنچا دیا۔میرا یہاں نہ بھائی تھا، نہ باپ تھا اور نہ کوئی اور رشتہ دار تھا۔میں ایک غلام تھا تو نے پکواتے کی پکواتے مجھے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا۔پھر تو نے اس بادشاہ کے دل میں میری محبت ڈالی اور اس نے مجھے فوج میں ایک عہدہ دے دیا اور آہستہ آہستہ درجہ بلند کرتے کرتے مجھے افسر خزانہ کے عہدہ پر پہنچا دیا۔لیکن اے خدا ! میں ان چیتھڑوں کو نہیں بھول سکتا۔میری یہی حیثیت تھی میں یہی پرانے چیتھڑے لے کر یہاں آیا تھا۔باقی تیرا کام ہے۔بادشاہ یہ نظارہ دیکھتا رہا۔آدھے گھنٹہ کی کے بعد اُس نے نماز ختم کی ، چیتھڑے اتارے اور انہیں ایک پوٹلی میں باندھ کر نہایت احتیاط سے بکس میں بند کر دیا۔جب وہ باہر نکلا تو بادشاہ نے کہا ایاز ! درباریوں نے تمہاری شکایت کی تھی اس لئے میں یہاں تحقیقات کے لئے آیا تھا۔ایاز کا رنگ زرد ہو گیا۔بادشاہ نے کہا تو ڈرتا کیوں کی ہے؟ میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے۔شکایت کر نیوالے جھوٹے ہیں تو سچا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ تو بڑا نیک ہے اور تمام الزامات سے بری ہے۔ایاز نے کہا بادشاہ سلامت ! میں ڈرتا اس لئے ہوں کہ یہ میرے اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک راز تھا لیکن آج راز کو جاننے والا ایک اور ہو گیا۔پس دیکھو احسان کی قدر ہی انسان کو شریف بناتی ہے اور آپ لوگوں پر جن میں میں بھی شامل ہوں۔خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے احسانات ہیں۔میری ذاتی زمین بھی یہاں ہے۔