خطبات محمود (جلد 33) — Page 311
1952 311 خطبات محمود اگر وہ آپ کو ہر وقت محمد کہتا ہے تو کیا وہ آپ کو قرآن کریم کے معارف ، لطائف اور حقائق بھی دیتا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا دیتا تو کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا دیکھو ! سچے اور جھوٹے میں یہی فرق ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص بچے طور پر کسی کو مہمان بناتا ہے تو وہ اسے کھانے کو دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی کسی سے مذاق کرتا ہے تو وہ یونہی کسی کو بلا کر اس کے سامنے خالی برتن رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے یہ کی پلاؤ ہے، یہ زردہ ہے۔خدا تعالیٰ مذاق نہیں کرتا۔شیطان مذاق کرتا ہے۔اگر آپ کو محمد کہا جاتات ہے اور پھر قرآن کریم کے معارف ، لطائف اور حقائق نہیں دیئے جاتے تو ایسا کہنے والا شیطان کی ہے خدا نہیں۔خدا تعالیٰ اگر کچھ کہتا ہے تو وہ اس کے مطابق چیز بھی انسان کے آگے رکھ دیتا ہے۔اگر آپ کے سامنے کوئی چیز نہیں رکھی جاتی تو آپ یقین کر لیں کہ آپ کو محمد کہنے والا خدا کی نہیں شیطان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تغیر خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پر تو لوگوں کی توجہ آپ ہی آپ، آپ کی طرف ہو گئی۔یہ نہیں ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوئی سنا ہو اور اس نے آپ کو کوئی اہمیت نہ دی ہو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت بھی بتا رہی ہے کہ لوگ آپ کو اہمیت دیتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو اپنے اند راستقلال پیدا کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ نے انہیں ایک عظیم الشان روحانی تغیر کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور عظیم الشان تغیر دلوں کی اصلاح سے ہی ہوسکتا ہے بیرونی اصلاح سے نہیں۔یورپین تحریکیں بیرون سے اندرون کی طرف چلتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی تحریکیں اندرون سے بیرون کی طرف چلتی ہیں۔مجھے اس خطبہ کی تحریک خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع سے ہوئی ہے۔نوجوانوں کا جلسہ ہو رہا ہے اور وہاں لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ ہو رہا ہے۔اس میں کوئی کی شبہ نہیں کہ اس سے بھی اصلاحیں ہوتی ہیں لیکن یہ اصلاحیں زیادہ دیر تک نہیں چل سکتیں۔اس کے کی مقابلہ میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تبدیلی پیدا کی وہ دل سے تعلق رکھتی تھی۔اس کی کا تعلق اندرون سے تھا۔اس لئے آپ ایک حقیقی تبدیلی پیدا کر گئے۔آج آپ کی لائی ہوئی تھی تعلیم پر چودہ سو سال گزرنے کو ہیں لیکن اس کے نقش ابھی قائم ہیں۔فلاسفروں کی کتب پڑھنے کی والے آج بھی ہزاروں ہوں گے۔جالینوس کی کتابیں پڑھنے والے سینکڑوں ہوں گے۔لیکن اُن جی پر عمل کرنے والا کوئی نہیں ملے گا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے کی