خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 266

1952 266 خطبات محمود بھی کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔فاسق کے معنی صرف بد کار کے ہی نہیں۔فاسق کے معنی تیز مزاج کے بھی ہیں، فاسق کے معنی لڑا کے اور تعاون نہ کرنے والے کے بھی ہیں۔فاسق کے معنی اُس شخص کے بھی ہیں جو لوگوں کے چھوٹے چھوٹے قصوروں کو لے کر بڑھا کر پیش کرتا ہے اور انہیں کمال تک لے جاتا ہے۔اس کے نزدیک یہ باتیں معمولی نہیں ہوتیں بلکہ ان کا کرنے والا واجب القتل ہوتا ہے۔پشاور کے ایک دوست تھے حافظ محمد اُن کا نام تھا۔بڑے مخلص احمدی تھے۔ان کی طبیعت میں یہ مرض تھا کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر کفر سے ورے نہیں ٹھہرتے تھے۔فرض کرو کوئی شخص تشہد میں اپنے دائیں پاؤں کی انگلیاں سیدھی نہیں رکھتا تو اُن کے نزدیک وہ کفر کی حد تک پہنچ جاتا تھا۔میں نقرس کی وجہ سے کئی سال سے دائیں پاؤں کی انگلیاں تشہد کی حالت میں سیدھی نہیں رکھ سکتا۔پہلے رکھا کرتا تھا اب اُن کا سیدھا رکھنا مشکل ہے۔اگر حافظ محمد صاحب اب زندہ ہوتے تو غالبا کی شام تک وہ مجھ پر کفر کا فتویٰ لگا دیتے۔اس لئے کہ یہ پاؤں کی انگلیاں سیدھی نہیں رکھتے اور ایسا کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔پس معلوم ہوا اُن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں۔اور اگر اُن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں تو اُن کا قرآن کریم پر بھی ایمان نہیں۔اور اگر اُن کا قرآن کریم پر ایمان نہیں تو اُن کا خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں۔ہم جب چھوٹی عمر کے تھے اُس وقت مسجد مبارک کے پاس ایک نالہ تھا۔یہ نالہ دراصل ایک بڑی نالی تھی جس میں بسا اوقات گھٹنے گھٹنے تک گند بہتا تھا۔اس نالہ پر ایک پھٹا ڈالا ہوا تھا جس کی پر سے لوگ گزرتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ حافظ محمد صاحب ایک دن اُس پھٹا پر بیٹھے ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہے تھے کہ اے خدا! تیرے مسیح کے اردگر دسارے کفار اور فاسق جمع ہو گئے ہیں تو اپنے مسیح کی حفاظت فرما۔صرف ڈیڑھ مومن ہیں پورا میں اور آدھے مولوی نورالدین، باقی سب لوگ فاسق اور کافر ہیں۔حافظ محمد صاحب ، مولوی عبد الکریم صاحب کے تو شروع سے مخالف تھے کیونکہ وہ تیز مزاج تھے۔ویسے حافظ صاحب نہایت مخلص اور قربانی کرنے والے احمدی تھے اور اپنی نیکی کی وجہ سے مشہور تھے۔اُن دنوں اگر کوئی ہندوستانی پولیٹیکل ایجنٹ کے عہدے پر پہنچ جاتا تھا تو یہ ایک بہت بڑی ترقی سمجھی جاتی تھی۔حافظ محمد صاحب بڑے بڑے افسروں اور پولٹیکل ایجنٹ کے مکان پر رات کو چلے جاتے تھے اور کہتے تھے میں نے خیال کیا کہ